جلگاؤں، مہاراشٹرا – موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس فار ویلفیئر (MPJ) نے آج یہاں شمولیاتی ترقی کی طرف ایک قدم موضوع پر قومی کنونشن کا انعقاد کیا- ملک میں شمولیاتی ترقی کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور سماج کے تمام طبقات کو ترقی کے عمل میں شامل کرنے کے لیے اس کنونشن کا اہتمام کیا گیا تھا ۔تحریک کے نائب صدر محمود خان نے کہا کہ ملک میں کچھ ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں اپنے ہی ملک کے شہری کو جوتوں میں پینے کے لیے پانی دیا جاتا ہے۔ آج بھی لوگ مساوات کے لیے ترس رہے ہیں۔ ملک میں بڑے پیمانے پر سماجی اور معاشی عدم مساوات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس (MPJ) ہمہ جہت ترقی کی بات کرنے پر مجبور ہے۔
ایم پی جے کے وژن کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد انیس نے کہا کہ آئین ملک کے ہر فرد کے وقار کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے پنڈت جواہر لعل نہرو نے کہا تھا کہ اگرچہ آج ہمیں آزادی ملی ہے لیکن ہماری آزادی کی لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہم لائن میں موجود آخری شخص کی آنکھوں سے آنسو نہیں پونچھیں گے۔ . بابا صاحب نے بھی کہا تھا کہ آج ہمیں سیاسی جمہوریت مل گئی ہے لیکن سوشل ڈیموکریسی ایک خواب ہے۔ ہمیں شمولیاتی ترقی کی بات کرنے اور لوگوں کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔
لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی جے مہاراشٹر کے صدر محمد سراج نے کہا کہ آج ملک میں ترقی ہوئی ہے، لیکن اس ترقی کا پھل ہر کسی کو نہیں مل رہا ہے۔ آج ملک میں بھوک، بیماری، غذائی قلت اوربے روزگاری جیسی چیزیں بڑے مسائل بنی ہوئی ہیں۔ MPJ کا مقصد امن اور انصاف کا قیام ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک میں غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔
جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے صدر محمد الیاس فلاحی نے کہا کہ سب کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کے لیے قائدین کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔ آج ملک میں ترقی ہوئی ہے لیکن اس ترقی کا پھل ہر کسی کو نہیں مل رہا۔
بھارت ایک فلاحی ریاست تھی جس کا مقصد عوامی بہبود فراہم کرنا تھا لیکن آج یہ ملک کارپوریٹ ویلفیئر اسٹیٹ بن چکا ہے۔ آج لیڈروں کو ذمہ دار بنانے کی ضرورت ہے۔بھارت کے لوگوں کو یہ ذمہ داری نبھانی ہوگی۔
مشہور ماہر اقتصادیات پروفیسر ارون کمار نے کہا کہ کالی معیشت بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے جس کا ملک اور سماج پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ زراعت میں پیداواری صلاحیت نہیں ہے، لوگوں کے پاس کام نہیں ہے۔ پچھلے تیس سالوں میں بینکوں کے کام میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے لیکن اس شعبے میں روزگار مسلسل کم ہو رہا ہے۔ 19 کروڑ لوگوں نے کام تلاش کرنا چھوڑ دیا ہے۔ 28 کروڑ لوگوں کے پاس مناسب کام نہیں ہے۔ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے بچے غلط راستہ اپناتے ہیں۔ نشے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ جرم کی راہ اپنا لیتے ہیں ۔ ہر سال 2.7 کروڑ بچے جاب مارکیٹ میں کام کرنے آتے ہیں، جنہیں روزگار نہیں مل پاتا ہے ۔ حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ غریبوں کو غریب ہی رہنے دیا جائے اور انہیں 5 کلو راشن کا مستحق بنایا جائے۔ ملک میں سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے روزگار کے مواقع بھی کم ہو رہے ہیں۔ کالے دھن کی معیشت بڑھ رہی ہے۔ معیشت کا 60 فیصد کالا دھن ہے۔ نوجوانوں، محنت کشوں اور خواتین کو بڑے پیمانے پر متحد کرنے کی ضرورت ہے۔
خواتین کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے مشہور کارکن یوگونی کھانولکر نے کہا کہ نرمدا پروجیکٹ میں ترقی کے نام پر حکومت نے زمین اور وسائل پر قبضہ کیا ۔ یہاجسکی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی اور خواتین کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ خواتین کو نہ صرف تعلیم اور صحت میں چچیلنجز کا سامنا ہے بلکہ اب خواتین کی عزت بھی محفوظ نہیں۔ ازدواجی عصمت دری کو جرم کے زمرے سے نکال دیا گیا ہے۔ اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم پالیسی میں خواتین کی جگہ کو کیسے یقینی بنا سکتے ہیں۔ خواتین کے چچیلنجز روز بروز بڑھ رہے ہیں۔
کسانوں کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے کسان لیڈر وجے جاوندھیا نے کہا کہ حکومت کسانوں کے مسائل حل نہیں کرنا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں کارپوریٹس کی ترقی کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ہر حکومت سرمایہ داروں کو مراعات دیتی رہی ہے۔ انگریزوں کی طرح ہماری حکومتیں بھی خوراک پیدا کرنے والوں کو غریب دیکھنا چاہتی ہیں۔ مہاراشٹر کے مشہور آزادیکے سپاہی سانے گرو جی نے خودکشی کر لی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جب آزاد ہبھارت میں پالیسیاں بن رہی تھیں تو انہیں لگا کہ ہم وہی پالیسیاں بنا رہے ہیں جو انگریز بناتے تھے۔ اسی بات پر اس نے خودکشی کرلی۔ جاوندھیا نے کہا کہ پہلے ملک میں سوشلزم اور کمیونزم تھا لیکن آج دھرم واد ہے۔ مذہب کے نام پر لوگوں کی توجہ کو ان کے اصل مسائل سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ایک طرف ہم امرت کال کا جشن منا رہے ہیں اور دوسری طرف 80 کروڑ لوگوں کو مفت اناج دے رہے ہیں اور اپنی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں۔ آخر 75 سالوں میں ہم نے انہیں کیا دیا؟ ان کی ترقی کیوں نہیں ہوئی کہ وہ دو وقت کی روٹی کھا سکیں۔ مودی جی کہتے ہیں کہ اچھے دن آئیں گے لیکن کب آئیں گے؟ میں مودی جی سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے غریبوں، مزدوروں اور نوجوانوں کے لیے کیا کیا ہے؟
آدیواسیوں کے مسئلہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشہور کارکن پرتیبھا شندے نے کہا کہ آج کوئی بھی آدیواسیوں کی بات نہیں کرتا۔ وہ بڑی تعداد میں بے گھر ہو گئے ، لیکن ملک میں ان کا کوئی چرچا نہیں۔ آخر اتنی بڑی تعداد میں لوگ کہاں گم ہو گئے؟ آدیواسی خود کو آدیواسی کہتے ہیں لیکن حکومت انہیں شیڈول ٹرائب کہتی ہے اور انہیں ہندو، مسلم اور عیسائی میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔
شرکاء کو مخطاب کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطاب میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر سلیم انجینئر نے کہا کہ آج جو زیادہ نفرت پھیلاتا ہے وہ بڑا قوم پرست ہے۔ آج فسطائی طاقتیں برسراقتدار ہیں اور ملکی میڈیا کی مدد سے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مذہب انسان کو انسان سے جوڑتا ہے لیکن آج مذہب کا سہارا لے کر لوگوں کو توڑنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مساوات، انصاف، آزادی اور بھائی چارے کے آئینی نظریات پر عمل کرتے ہوئے ملک کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔