ایرانی میڈیا نے تہران میں موجود اس عمارت کی ایک تصویر شائع کی جس میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب نشانہ بنایا گیا جس کےنتیجےمیں وہ مارے گئے تھے۔
جس عمارت میں ہنیہ کو اس کے محافظ سمیت قتل کیا گیا وہ تہران کے شمال میں پاسداران انقلاب کے ایک بند کمپلیکس کے اندر واقع ایک گیسٹ ہاؤس ہے۔تصویر میں عمارت کا کچھ حصہ کپڑے کے ایک بڑے ٹکڑے سے ڈھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا مقصد اسرائیل سے منسوب حملے کے بعد ہونے والے نقصان کو چھپانا تھا، جس نے ابھی تک ہنیہ کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ہنیہ کو کل بدھ کو تہران کے وقت کے مطابق رات دو بجے کے قریب قتل کیا گیا۔ وہ دارالحکومت کے شمال میں سابقہ فوجیوں کے لیے بنائی گئی ایک "نجی رہائش گاہ” میں مقیم تھے۔
فضائی حملہ:ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سے وابستہ ’نور‘ نیوز ایجنسی نے کہا کہ ہنیہ کی رہائش گاہ کو فضا سے مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس نے ہنیہ کو ذاتی طور پر نشانہ بنایا۔
آج جمعرات کو دارالحکومت کے وسط میں واقع تہران یونیورسٹی میں ہزاروں افراد نے ھنیہ کی میت کے ساتھ ان کی تصاویر اور فلسطینی پرچم اٹھائے جلوس نکالا۔ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای نے ہنیہ اور ان کے محافظ کی نماز جنازہ پڑھائی۔تہران میں آخری رسومات مکمل کرنے کے بعد ھنیہ کی میت کل جمعہ کو تدفین کےلیے قطر قطر لے جایا جائے گا۔