اہم خَبر: مجرموں کو تحفظ دینے والی یوپی حکومت انصاف کی آواز کو دبانا چاہتی ہے… پرینکا گاندھی

مجرموں کو تحفظ دینے والی یوپی حکومت انصاف کی آواز کو دبانا چاہتی ہے… پرینکا گاندھی

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے انتظامیہ کی کارروائی پر سخت حملہ کیا ہے، انہوں نے ٹوئٹ کر کہا کہ ’’اتر پردیش میں حکومت کی جانب سے مجرموں کو تحفظ فراہم ہے، عصمت دری متاثرہ کو ڈرایا دھمکایا جارہا۔ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت شاہجہاں پور کی بیٹی کے لئے انصاف مانگنے کی آواز کو دبانا چاہتی ہے، ’نیائے پد یاترا‘ روکی جا رہی ہے، ہمارے کارکنوں، رہنماؤں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، ڈر کس بات کا ہے‘‘؟


چنميانند معاملے میں کانگریس کی ’نیائے پد یاترا‘ سے قبل جتن پرساد نظربند

شاہجہاں پور کی طالبہ کو انصاف دلانے کے لئے کانگریس کے رہنما آج شاہجہانپور میں ’نیائے پد یاترا‘ کرنے والے ہیں، لیکن انہیں ایسا کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ جتن پرساد نے انتظامیہ کی اس کارروائی پر کہا کہ یہ بد قسمتی ہے کہ ایک عصمت دری متاثرہ کو انصاف دلانے کے لئے پرامن ’نیائے پد یاترا‘ نکالنے جا رہی ہے۔ لیکن اسے روکا جا رہا ہے۔ کیا وجہ ہے، اس سے کون سا نظم و نسق میں خلل پڑ رہا ہے، ہم نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ یہ پد یاترا شاہجہاں پور سے نکل کر لکھنؤ تک جائے گی۔ عصمت دری متاثرہ کی آواز بلند کی جائے گی جو انصاف کے لئے آواز بلند کر لگا رہی ہے۔ یہ برداشت سے باہر ہے، انتظامیہ کا یہ فیصلہ کانگریسی کارکنان اور کانگریس قیادت کو برداشت نہیں۔


روس کے جنگلوں میں لگی آگ مکمل طور سے بجھائی گئی

ماسكو: روس کے جنگلو ں میں لگی شدید آگ پر فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے پیر کو مکمل طور پر قابو پا لیا۔ روسی ہوائی جنگلات کے تحفظ سروس کے سیکشن کی جانب سےجاری بیان کے مطابق’’روس کے جن جن علاقہ کے جنگلوں میں آگ لگی تھی، ان سب پر پیر کو قابو پا لیا گیا ہے‘‘۔

قابل ذکر ہے کہ روس اور سائبیریا کے کئی علاقوں میں جولائی اور ستمبر کے درمیان جنگلوں میں آگ لگ گئی تھی جس کے بعد ان علاقوں میں ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا تھا۔ جنگلوں میں آگ لگنے کے بعد سے ہی روس ہوائی جہازوں کے ذریعہ آگ بجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading