عوامی ایشوز سے گھبرا گئی ہے بی جے پی، اس لیے بنا رہی صحافیوں کو نشانہ: پرینکا گاندھی
ان دنوں یو پی کی بی جے پی حکومت صحافیوں پر لگاتار حملہ کر رہی ہے۔ حکومت کے خلاف خبریں دکھائے جانے سے ناراض یوگی حکومت نے کئی صحافیوں پر کیس تک درج کرا دیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے یوگی حکومت کی اس کارروائی کی سخت تنقید کی ہے۔ پرینکا نے ٹوئٹ کیا ہے کہ ’’صحافی صرف آنکھ پر پٹّی باندھ کر واہ واہی کے لیے نہیں ہوتے۔ ان کا کام ہوتا ہے عوام کے ایشوز پر خبریں بنانا اور حکومت سے جواب مانگنا۔ لیکن اتر پردیش کی بی جے پی حکومت ایسے صحافیوں پر لگاتار حملہ بول رہی ہے۔‘‘ پرینکا گاندھی نے پوچھا کہ ’’کیا بی جے پی کو عام لوگوں کے ایشوز کا خوف پریشان کر رہا ہے۔‘‘
पत्रकार केवल आँख पर पट्टी बाँध कर वाहवाही के लिए नहीं होते। उनका काम होता है जनता के मुद्दों पर खबरें बनाना और सरकार से जवाब लेना।
लेकिन उप्र भाजपा सरकार ऐसे पत्रकारों पर लगातार हमला बोल रही है। क्या भाजपा को आम जनता के मुद्दों का डर सता रहा है?https://t.co/hXGSAvD4My
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) September 12, 2019
ہندوستان اور چین کے فوجی آپس میں متصادم، ہوئی دھکّا-مکّی
پاکستان کے ساتھ ساتھ چین بھی ہندوستان کے ساتھ سازش کرتا رہا ہے۔ خبر ہے کہ بدھ کو سرحد پر چینی فوجی ہندوستانی فوجیوں سے نبرد آزما ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان کافی دیر تک دھکّا-مکّی ہوتی رہی۔ یہ واقعہ 134 کلو میٹر طویل پینگونگ جھیل کے شمالی کنارے پر ہوئی، جس کے ایک تہائی حصے پر چین کا کنٹرول ہے۔
ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’ہندوستانی فوجی پٹرولنگ پر تھے اور اسی دوران ان کا سامنا چین کے پیپلز لبریشن آرمی کے فوجیوں کے ساتھ ہو گیا۔ چینی فوجیوں نے علاقے میں ہندوستانی فوجیوں کی موجودگی کے خلاف آواز اٹھائی اور اس کے بعد دونوں جانب کے فوجیوں میں دھکّا-مکّی ہونے لگی۔ دونوں فریق نے علاقے میں اپنی فوجیوں کی تعداد بڑھا دی، دیر شام تک یہ جدوجہد جاری تھا۔
Indian Army: There was a face off between soldiers of Indian Army and Chinese Army near the northern bank of the Pangong lake. The face off was over after the delegation level talks between two sides there. De-escalated & disengaged fully after delegation level talks yesterday. pic.twitter.com/dZY9Mp04l2
— ANI (@ANI) September 12, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
