راہل گاندھی نے کانگریس کارکنان سے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے آنے کو کہا
اس وقت ملک کے کئی علاقوں میں سیلاب کی صورت حال کافی سنگین بنی ہوئی ہے۔ اس مشکل حالات میں کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے پارٹی کارکنان سے آگے آنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں ٹوئٹ کیا ہے کہ ’’آسام، بہار، اتر پردیش، تریپورہ اور میزورم میں سیلاب سے حالات بے قابو ہو گئے ہیں۔ معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو گیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’میں ان سبھی ریاستوں کے کانگریس کارکنان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عام لوگوں کی راحت اور بچاؤ کام میں فوری طور پر سرگرم ہوں۔‘‘
असम, बिहार, उतर प्रदेश, त्रिपुरा और मिजोरम में बाढ़ से हालात बेकाबू हो गए है। जन-जीवन बुरी तरह प्रभावित हो गया है।
मैं इन सभी राज्यों के कांग्रेस कार्यकर्ताओं से अपील करता हूं वे आम लोगों के राहत और बचाव कार्य में तत्काल जुटे।
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) July 16, 2019
آندھرا پردیش: پانی کو لے کر دو خواتین کے درمیان جھگڑا، ایک کی موت
حیدرآباد: پانی کے مسئلہ پر دو خواتین کے درمیان معمولی سے جھگڑے میں ایک خاتون کی موت واقع ہوگئی۔ یہ افسوسناک واقعہ آندھرا پردیش کے سریکاکولم ضلع کے سوم پیٹ ٹاون میں پیش آیا۔تفصیلات کے مطابق پلی ویدھی علاقہ میں سرکاری اسکیم کے تحت روزانہ پینے کا پانی سپلائی کیا جاتا ہے اور علاقہ کے مکین اپنے اپنے گھڑوں کو قطار میں رکھ پانی حاصل کرتے ہیں۔ پانی حاصل کرنے کے دوران 36 سالہ پدما اور 40 سالہ سندراماں کے درمیان جھگڑا ہوگیااور بات مار پیٹ تک پہنچ گئی۔ اس دوران سندراماں نے پدما پر گھڑے سے سر پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں پدما وہیں گر گئی۔مقامی افراد نے اسے اسپتال منتقل کیا تب تک پدما مر چکی تھی۔پدما کے شوہر کی شکایت پر پولیس نے سندراماں کے خلاف قتل کا معاملہ درج کرلیا۔
اتر پردیش: بھوک سے گئوشالہ میں کئی گایوں کی موت
اتر پردیش کے گئو شالاؤں میں گایوں کی موت کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ معاملہ بارہ بنکی واقع صفدر گنج کا ہے جہاں چارہ نہیں ملنے سے کئی گایوں کی موت ہو گئی ہے۔ یہ الزام دیہی لوگوں نے عائد کیا ہے۔ اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ کی جائے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ گاؤں والوں کے الزام میں اگر سچائی ملی تو قصورواروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
Barabanki: Locals in Safdarganj allege some cows, at local cow-shelter, died due to lack of fodder-water there. Dist magistrate says, "Matter will be investigated&if it's true, action will be taken. But as far as I know there's no lack of fodder-water at any cow-shelter." (15.07) pic.twitter.com/EYAmTsM70h
— ANI UP (@ANINewsUP) July 16, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
