دہلی کی تمام ضلع عدالتوں میں وکلاء کا مظاہرہ، ایک نے کی خودکشی کی کوشش
نئی دہلی: تیس ہزاری کورٹ کے احاطے میں تشدد اور جھڑپ کے واقعہ کے خلاف دہلی کی تمام ضلع عدالتوں میں وکلاء کا مظاہرہ بدھ یعنی تیسرے دن بھی جاری رہا اور اسی درمیان روہنی کورٹ کی عمارت پر چڑھ کر ایک وکیل نے خود کشی کی کوشش کی۔
دارالحکومت کے تمام ضلع عدالتوں کے باہر وکلاء پولس دہلی کے خلاف نعرے بازی اور مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وکلاء نے صبح روہنی کورٹ میں عوام کو جانے سے روک دیا اور جم کر نعرے بازی کی۔ مظاہر کرنے والے وکلاء انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ روہنی کورٹ کے علاوہ ساکیت اور پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں مظاہرہ جاری ہے۔ ساکیت کورٹ میں وکلاء نے کورٹ کے تمام دروازے بند کر دیئے ہیں اور کام کاج ٹھپ ہے۔ بارکونسل آف دہلی کے منع کرنے کے باوجود بھی وکلا ء کی ہڑتال جاری ہے۔
Delhi: Lawyers strike enters third day in protest against the clash between police & lawyers at Tis Hazari Court on November 2. (Visuals from Saket Court) pic.twitter.com/wVULOeFsiF
— ANI (@ANI) November 6, 2019
دہلی کی روہنی کورٹ میں وکلاء کا زبردست مظاہرہ
دہلی کی تیس ہزاری کورٹ احاطے میں 2 نومبر کو پولس اور وکلاء کے درمیان ہوئی جھڑپ کی مخالفت میں وکلاء کی ہڑتال تیسرے دن میں داخل ہو گئی ہے، روہنی کورٹ کے ایک وکیل نے کہا، "ہماری لڑائی صرف ان پولس اہلکاروں کے خلاف ہے، جنہوں نے ہم پر گولی چلائی تھیں اور اس دن لاٹھی چارج کیا تھا، ہم ان کی گرفتاری تک مظاہرہ کریں گے۔
Delhi: Lawyers strike enters third day in protest over the clash between police & lawyers at Tis Hazari Court on November 2. A lawyer at Rohini Court says,"our fight is against only those policemen who fired at us& lathicharged us that day.We will protest till they are arrested. pic.twitter.com/SUPTyo4pig
— ANI (@ANI) November 6, 2019
کرناٹک: چتردرگ میں مڈ ڈے میل کھانے کے بعد 60 طلبا کی طبیعت ناساز، داخل اسپتال
کرناٹک کے چتردرگ میں ایک پرائمری اسکول کے 60 سے زیادہ طلبا کو آج اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ طلبا نے اسکول میں مڈ ڈے میل کا ساتعمال کیا تھا، اس کے بعد انھوں نے پیٹ میں درد اور الٹی کی شکایت کی۔
Karnataka: More than 60 students of a primary school in Chitradurga admitted to hospital today. Students complained of stomach ache and vomiting allegedly after consuming mid meal at school. pic.twitter.com/POZ7dA8ASN
— ANI (@ANI) November 6, 2019
دہلی: سپریم کورٹ کے وکیل نے پولس کمشنر امولیہ پٹنایک کو بھیجا قانونی نوٹس
سپریم کورٹ کے وکیل ورون ٹھاکر نے دہلی پولس کمشنر کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پولس ہیڈکوارٹر پر منگل کو پولس اہلکاروں کے دھرنے سے لوگوں میں خوف کا ماحول بنا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ دھرنے کے دوران وکیلوں کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس بنیاد پر پولس کمشنر سے دھرنا دینے والے پولس اہلکاروں کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
A Supreme Court lawyer serves a legal notice to Commissioner of Police, Delhi for, "not taking action against the Delhi Police Forces and their officials, who actively participated in the demonstration on November 5 in front of Police Headquarters, ITO." pic.twitter.com/Bz87RXwUh4
— ANI (@ANI) November 6, 2019
اتر پردیش: طالبہ سے بدسلوکی کرنے کے الزام میں ٹیچر کی لاٹھی-ڈنڈوں سے بے رحمانہ پٹائی
اتر پردیش واقع پریاگ راج میں طلبا کے ایک گروپ نے بلکارن پور کے آدرش جنتا انٹر کالج کے ٹیچر کو بری طرح سے پٹائی کر دی۔ طلبا نے الزام عائد کیا کہ اس ٹیچر نے ایک طالبہ کے ساتھ نازیبا سلوک کیا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق ٹیچر کو پیٹنے والوں میں طالبہ کے گھر والے بھی شامل تھے۔ لاٹھی اور ڈنڈوں سے پٹائی کے سبب ٹیچر کو کافی چوٹیں آئی ہیں۔ اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور پریاگ راج کے ایس پی کا کہنا ہے کہ جلد ہی ملزمین کو گرفتار کیا جائے گا۔‘‘
#WATCH Prayagraj: A teacher was thrashed by a group of male students&their guardians at Balkaranpur's Adarsh Janta Inter College after he scolded the students when they allegedly misbehaved with female students. Prayagraj SP says "FIR registered, they'll be arrested soon." (5.11) pic.twitter.com/lfpqHVVPW2
— ANI UP (@ANINewsUP) November 5, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
