اناؤ عصمت دری متاثرہ کی کار کو ٹرک نے ماری ٹکر، چاچی اور وکیل کی موت، متاثرہ شدید زخمی
رائے بریلی میں ٹرک اور کار تصادم میں اناؤ ریپ کیس کی متاثرہ شدید زخمی ہو گئی ہے، اس حادثے میں متاثرہ کی چاچی اور ماں کی موت ہو گئی ہے۔ خبروں کے مطابق جس ٹرک نے متاثرہ کی کار کو ٹکر ماری ہے اس ٹرک کے نمبر پلیٹ کالے پینٹ سے بند کیے ہوئے ہیں۔ اس سے یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ متاثرہ کی کار کو جان بوجھ کر ٹرک نے ٹکر ماری ہے۔
معلومات کے مطابق اناؤ عصمت دری متاثرہ اپنی ماں، چاچی اور وکیل کے ساتھ رائے بریلی کی جیل میں بند اپنے چچا سے ملنے کے لئے جا رہی تھی، رائے بریلی کے اترا گاؤں میں ایک ٹرک نے ان کی گاڑی کو زبردست ٹکر مار دی جس کے سبب اس کی چچی اور ماں کی موقع پر ہی موت ہو گئی جبکہ متاثرہ کو شدید زخمی حالت میں لکھنؤ کے ٹراما سینٹر کے لئے ریفر کیا گیا ہے۔
غور طلب ہے کہ اناؤ ریپ معاملے میں بانگرمئو سے رکن اسمبلی کلدیپ سینگر اہم ملزم ہیں، دو سال پہلے 2017 میں متاثرہ ممبر اسمبلی کے گھر کام مانگنے گئی تھی، جہاں سینگر نے اس کے ساتھ بدفعلی کی تھی۔
Advocate Vimal Kumar Yadav, Junior of Advocate Mahendra Singh (lawyer of the victim in Unnao rape case): Victim, her mother, her aunt, and her lawyer were injured in the accident. Victim's mother and aunt succumbed to injuries; the victim and her lawyer are in critical condition. pic.twitter.com/5svvG7vDBz
— ANI UP (@ANINewsUP) July 28, 2019
سڑک حادثے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک
سیہور: مدھیہ پردیش کے ضلع سیہور کے جاور تھانہ علاقے میں آج ایک تیز رفتار کار کے بے قابو ہوکر پلٹنے سے اس میں سوار ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی موت ہوگئی اور ایک دیگر زخمی ہوگیا، جسے آشٹا کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
پولس ذرائع کے مطابق بھوپال کے آنند نگر کے رہنے والے ایک خاندان کے لوگ کار سے صبح اندور کے لئے نکلے تھے۔ راستے میں بھوپال اندور روڈ پر آشٹٓ کے نزدیک پگاریا وادی پر ان کی تیز رفتار کار بے قابو ہوکر پلٹ گئی۔ حادثے میں کار میں سوار انکش(35)،ان کی بیوی شردھا(28) اور انکش کا بھائی انوراگ (28) اور دو بچیاں ہیا(08) اور انچتا (04) کی جائے وقوع پر ہی موت ہوگئی۔
حادثے میں سوار ایک شخص راہل شدید طورپر زخمی ہے، جسے آشٹا کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ حادثے کے بعد سبھی ہلاک شدگان کی لاشین پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دی گئی ہیں۔
میانمار میں تودے گرنے سے 18 افراد ہلاک
یانگون: میانمار کے کاچن صوبہ کے ہپکانت شہر میں سنیچر کو عقیق کے کان کو ٹکراتے ہوئے تودہ گرنے سے 18 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ اطلاع اتوار کو مقامی افسر نے دی۔
محکمہ شہری انتظامیہ کے افسر نے بتایا کہ ’’’یہ حادثہ ہپکانت میں کیان چونگ گاؤں کے نزدیک عقیق کے کان پر چٹان گرنے کی وجہ سے پیش آیا جس میں کمپنی کے اسٹاف اور سیکورٹی گارڈمارے گئے۔ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق تقریبا دو بجے دن میں پیش آیا۔
محکمہ کے افسرنے مزید بتایا کہ بچاؤ ملازمین نے 18 لاشیں نکال لیں ہیں اور کئی اب بھی لاپتہ ہیں۔ دو سیکورٹی اہلکارکو بچانے کے بعد اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے۔ تلاشی مہم اب بھی جاری ہے۔
امریکہ میں فائرنگ، ایک کی موت، 11 زخمی
یویارک: امریکہ میں نیویارک کے بروکلن میں واقع براؤنس ولے ضلع میں اتوار کی صبح ایک رہائشی علاقے میں ہوئی فائرنگ میں ایک شخص کی موت ہوگئی اور 11 دیگر زخمی ہوگئے۔
مقامی میڈیا نے اتوار کو بتایا کہ ایک بندوق بردار نے براؤنس ولے ضلع کے کرسٹوفر اینویو اور ہیگمین ایونیو کے نزدیک رہائشی علاقے میں ایک سالانہ پروگرام کےد وران فائرنگ کرکے ایک 38سالہ شخص کو قتل کردیا۔ فائرنگ میں 11 افراد بھی زخمی ہوئےہیں۔
انفورسمنٹ محکمے کے ذرائع نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد حملہ آور جائے وقوع سے فرار ہوگیا۔ بعد میں پولیس کو ایک لاوارث بندوق ملی۔جائے وقوع کی جانچ کی جارہی ہے۔
اہم خبر: کرناٹک کے 14 باغی ارکان اسمبلی نا اہل قرار
بنگلورو: کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر کے آر رمیش نے ایک اہم فیصلہ لیتے ہوئے 14 ارکنا اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ ان میں کانگریس کے 11 اور جے ڈی ایس کے 3 ارکنا اسمبلی شامل ہیں۔ 3 ارکان اسمبلی کو اسپیکر نے اس سے پہلے ہی نااہل قرار دے دیا تھا۔ اپنی پارٹیوں سے بغاوت کرنے والے کل 17 ارکان اسمبلی نااہل قرار دئے جا چکے ہیں۔
ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ کرنے کے بعد اسپیکر رمیش کمار نے کہا کہ میں نے کوئی چالاکی یا ڈرامہ نہیں کیا، بلکہ مہذب طریقہ سے فیصلہ لیا ہے۔
نااہل قرار دئے گئے ارکان اسمبلی
کانگریس: بیراٹھی بسوراج، منی رتنم، ایس ٹی سوم شیکھر، روشن بیگ، آنند سنگھ، ایم ٹی بی ناگراج، بی سی پاٹل، پرتاپ گوڈا پاٹل، ڈاکٹر سودھاکر، شیوراج ھیبار اور شری منت پاٹل۔
جے ڈی ایس: گوپالییا، ناراین گوڈا اور اے ایچ وشوناتھ۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
