لکھنؤ: اتر پردیش میں سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی قیادت والی سماجوادی پارٹی حکومت نے سال 2016 میں ایک بل پیش کیا تھا، جسے عام طور پر "مدرسہ تنخواہ بل” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس بل کا مقصد سرکاری امداد یافتہ مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق قوانین میں تبدیلی لانا تھا۔
تاہم یہ بل قانون کی شکل اختیار نہیں کر سکا، کیونکہ اس وقت کے گورنر نے اسے منظوری کے لیے صدرِ جمہوریہ کے پاس بھیج دیا تھا اور اسے حتمی منظوری نہیں مل سکی۔
اس بل پر اس لیے تنازع پیدا ہوا کیونکہ ناقدین کا کہنا تھا کہ اس میں مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کے خلاف کارروائی، تفتیش یا مقدمہ درج کرنے کے لیے خصوصی اجازت اور الگ طریقۂ کار کی تجویز دی گئی تھی، جس سے انہیں دیگر سرکاری ملازمین کے مقابلے میں خصوصی تحفظ حاصل ہو جاتا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسے آئین میں درج مساوات کے اصول کے خلاف اور "اقلیتی خوشنودی” کی پالیسی قرار دیا، جبکہ سماجوادی پارٹی کا مؤقف تھا کہ اس کا مقصد مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
بعد ازاں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے اس زیر التوا بل کو واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس طرح کے خصوصی ضوابط کی ضرورت نہیں ہے اور اگر کسی مدرسہ استاد یا ملازم پر کسی بے ضابطگی یا جرم کا الزام ہو تو اس کے خلاف بھی دیگر سرکاری ملازمین کی طرح عام قوانین کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ معاملہ صرف سرکاری امداد یافتہ مدارس اور ان کے اساتذہ و ملازمین سے متعلق تھا۔ اس کے علاوہ حالیہ عرصے میں اتر پردیش حکومت نے مدرسہ تعلیم سے متعلق دیگر اصلاحات بھی کی ہیں، جن میں مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ میں ترمیم اور کامل و فاضل ڈگریوں سے متعلق بعض اختیارات میں تبدیلی شامل ہے۔