
آزاد ہندوستان کی 71 سالہ سیاسی تاریخ پرنظرڈالیں تو مرکز اورریاستوں میں کبھی طویل اور کبھی قلیل وقفے سے اقتدار میں تبدیلیاں آتی رہیں ہیں۔دو مرتبہ زعفرانی چہرے والی بی جے پی کو مرکز میں اقتدار حاصل ہوا ہے ۔ پہلی بار 1998 میں اٹل بہاری واجپائی اوردوسری بار 2014 میں نریندر مودی کی قیادت میں مرکز میں زعفرانی حکومتیں قائم ہوئیں ۔ لیکن ان حکومتوں کے علاوہ جب بھی مرکز میں کوئی حکومت برسراقتدار آئی اُس پرہندوفرقہ پرست حکومت ہونے کاالزام کبھی نہیںلگا ۔ سوائے بی جے پی حکومت کے اندراگاندھی کے وزارت اعظمی کے دور میں ایمرجنسی کے بعد جب1977ء میں لوک سبھا چناو¿ ہوئے تو بھائی مرارجی دیسائی کی قیادت میں دہلی کی گدی پر جنتاپارٹی کی جوحکومت براجمان ہوئی تھی وہ سیکولر حکومت تھی ۔ اس کے بعد 1984 میں راجیو گاندھی کی قیادت میںجو کانگریس حکومت تھی اس کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف کانگریس کے باغی رہنما وی پی سنگھ نے 1989ءمیںجنتادل کی جوحکومت قائم کی تھی وہ بھی سیکولر ہی تھی ۔ ان سیاسی پارٹیوں کے علاوہ درمیان میں کچھ عرصہ کے لئے چودھری چرن سنگھ’چندرشیکھر ‘دیوے گوڑا‘ آئی کے گجرا ل وزیراعظم بنے لیکن ان پرفرقہ پرست ہونے کاکوئی لیبل کبھی نہیں لگا ۔کانگریس بمقابلہ سیکولراپوزشن ‘الیکشن سیاست کامنتظرنامہ رہا مگر ملک پرسب سے زیادہ عرصہ تک حکومت کرنے کاسہرا کانگریس کے سر ہی جاتاہے ۔جس کارویہ گزشتہ دوتین دہائیوں میں کبھی نرم ہندوتوا اور کبھی دھندلا دھندلا سیکولرزم رہا ہے ۔بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ 2014ءمیں ملک کے اقتدار پر ایسے ٹولے نے قبضہ کرلیا جس کی دستور‘ مسلم مخالف پالیسیوں کیو جہ سے ملک کاہرامن پسند ‘ سیکولر‘ دانشمند ‘محب وطن اور سب سے بڑھ کر انسانیت پسندشہری بی جے پی اور اس کے وزیراعظم نریندر مودی سے نالاں ہونے لگاتھا ۔ بی جے پی جس کا ریموٹ کنٹرول آرا یس ایس کے ہاتھ میں تھا اور اب بھی ہے ‘اپنے ہندوتوا ایجنڈے پربہ عجلت عمل درآمد کروانے کے لئے مرکزی زعفرانی حکومت کو زبردستی ہدایات جاری کرتا رہا ۔سنگھ پریوار کے ایجنڈے میں سر فہرست ملک میں ہندوراشٹرکاقیام ہے ۔ یعنی ملک کے جمہوری ‘سیکولر دستور کاہمیشہ ہمیشہ کےلئے خاتمہ کرکے یہاں منوواد ی سماجی و سیاسی نظام کاقیام کرنا ہے۔آج جن پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناو¿ کے نتائج آئے ہیں ان نتائج سے چند دن قبل سنگھ پریوار کی ایماءپر ایودھیااوردہلی میں سادھو¿وں ‘سنتوں کی دھرم سنسد لگاکر یہ اعلان کروایا گیا کہ مرکزی حکومت رام مندر کی تعمیر کے لئے جلد سے جلد قانون بنانے کاعمل شروع کرے ۔ورنہ نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہے۔ اس اعلان کامقصد صرف پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناو¿ میں ہندو ووٹرس کو بی جے پی کی طرف راغب کرکے الیکشن جیتناتھا ۔ اس طرح مسلم ودلت مخالف قوانین پاس کرنے کے لئے مرکزی اور ریاستی بی جے پی حکومتوں پردباو¿ ڈالا جاتارہاہے ۔انتخابی ماحول کو فرقہ وارانہ رنگ میںڈھالنے کےلئے مسلمانوں کے بادشاہوں یا مسلم اہم شخصیات کے ناموں والے شہروں اورشاہراہوں کے نام تبدیل کرکے اُن پرہندوتواوادی رنگ و روغن چڑھانے کامنصوبہ بندپروگرام شروع کیاگیا۔انصاف کے مندرعدالت عالیہ اورریاستی عدالتوں پردباو¿ ڈال کر اپنی پسند کے فیصلے کرواے جانے لگے ۔ چنانچہ دباو¿ سے تنگ آکر سپریم کورٹ اورہائی کورٹوں کے ججوں کو پریس کانفرنسوں میں احتجاج کرنا پڑا ۔ریاستی چناو¿ کے نتائج سے صرف ایک دن قبل آر بی آئی گورنر اُرجیت پٹیل نے بینک کی خوداختیاری کے سوال پر حکومت سے اختلافات ہونے کے سبب 10ڈسمبر کواپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔
گﺅماتا کے نام پر پٹنہ سے راجستھان تک پولس کی موجودگی میں مسلمانوں کا دن دہاڑے قتل عام کیاجانے لگا ۔ ملک کی امن اورقانون کی اس ابتر صورتحال سے نہ صرف مسلمان ‘دلت‘عیسائی بلکہ ہندوو¿ں کا بڑا طبقہ بھی فکر مند ہوچکاتھا اور بی جے پی کو دھول چٹانے کا بڑے بے چینی سے انتظارکررہاتھا ۔اس نے مدھیہ پردیش‘راجستھان ‘چھتیس گڑھ ‘تلنگانہ اورمیزورم میں اے وی ایم مشین کابٹن دباکر بی جے پی کو اسکی اوقات دکھادیں بی جے پی کو ان پانچوں ریاستوں میں ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا ۔ بی جے پی کے قائدین کو نوشتہ دیوار پڑھ لیناچاہئے ۔چھتیس گڑھ میں کانگریس اورتیلنگانہ میں ٹی آر ایس کے وزرائے اعلیٰ حلف لینے کی تیاری کررہے ہیں ۔ مدھیہ پردیش اورراجستھان میں بھی بی جے پی کو اپنی دکان بڑھانی پڑی ہے ۔ لوک سبھاانتخابات کو 120 دن باقی بچے ہےں ۔ان پانچ ریاستوں کے نتائج کے ساےے لوک سبھا الیکشن پرضرور پڑیں گے۔ دیگر معنی میں آج سے ملک سے بُرے دنوں کے خاتمے اور اچھے دنوں کی شروعات کا عمل شرو ع ہوچکا ہے ۔ اس کارِ خیر میں کانگریس سپریمو راہول گاندھی اورچندراشیکھرراو¿ کی حکمت عملیوں اور کوششوں کابڑادخل ہے ۔ ملک کی 71سالہ سیاست میں سارے بھارت نے یہ پہلی بار سنا کہ وزیراعظم کو اپوزشن کا ایک لیڈر چور کہتا ہے ‘وہ یہیں نہیں رکتا ہے بلکہ وہ اسے چوکیدار چورکہتاہے ۔اورمودی جی پرترس آتاہے وہ بے بس ‘مجبورلاجواب دیکھائی دیتے ہیں ۔ آزاد بھارت کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی ہے ۔مودی جی نے کرپشن ‘ جھوٹ اوروعدہ خلافی کی حدیدیں پھلانگ دی ہیں ۔اور ایسی حدیدیں پھلانگنے والے کے پاس سوائے بغلیں جھانکنے کے کچھ ہوتا ہی نہیں ہے ۔ا س لئے اُسے رام مندر ‘ ذات پات کی سیاست کاسہارا لینے پر مجبور ہوناپڑتا ہے ۔ فرانس کے رافیل جنگی طیاروںکی خریدی میں اربوں روپیوں کے کرپشن کی بات راہول گاندھی ہر انتخابی جلسہ میں خم ڈھونک کرکرتے رہے ہیں۔ایسا وہی شخص کرسکتا ہے جس کے پاس الزامات کو ثابت کرنے کےلئے دستاویزی ٹھوس ثبوت ہوں مودی کے چار سالہ دورمیں نہ تو بے روزگاروں کوہرسال ایک کروڑ ملازمتیں ملیں اور نہ کسانوں کومعاشی آسودگی۔اسکے برعکس مسلمانوں پر مسلسل ظلم وستم کے پہاڑاس لئے توڑے جاتے رہےکہ وہ اسلام کے ماننے والے تھے ۔ کبھی اسلامی شرعی قوانین میں مداخلت کرتے ہوئے انھیں تبدیل کرنے کےلئے عدالتوں میںعرضیاں دی جاتی رہیں۔ توکبھی دہلی کی جامع مسجد کو مسمارکرکے اسے مندر میں تبدیل کرنے کے بے بنیاد بیانات دئےے جاتے رہے ۔ مسلمانوں کے مجرموں کی پشت پناہی کرکے پراگندہ فرقہ وارانہ ماحول تیار کیاجارہا ہے ۔ یہ اور ایسے کئی ناقابل برداشت حرکتوں اور کرتوں کے خلاف سماج کے بڑے طبقے میںسنگھ پریوار ‘بی جے پی اور وزیراعظم کے خلاف اندر ہی اندر لاوا پکنے لگاتھا ۔جو آ ج پانچ ریاستوں کے چنا و¿ کے نتائج کی صورت میں اُبل پڑا ہے ۔ ہوا کارُخ بدل چکا ہے اوراسی کے ساتھ مودی جی کی اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔ اس میںدو رائے نہیںہے