رکن پارلیمنٹ اور معروف عالم دین مولانا اسرارالحق قاسمی ہمارے درمیان نہیں رہے اور ان کا ہمارے درمیان سے چلے جانا ملی اور قومی نقصان ہے۔
رکن پارلیمنٹ اور معروف عالم دین مولانا اسرارالحق قاسمی ہمارے درمیان نہیں رہےاور ان کی رحلت ایک ایسا ناقابل تلافی خسارہ ہے جس کی بھرپائی مستقبل قریب میں نظر نہیں آتی۔
معروف عالم دین، ممتاز قومی و ملی رہنما، دار العلوم دیوبند کے رکن شوری اور کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی کا صبح ساڑھے تین بجے انتقال ہو گیا ۔ ذرائع کے مطابق حضرت کو رات کو شدید دل کا دورہ پڑا تھا۔
My deepest condolences! With the death of my colleague in LokSabha from #Kishanganj #AsrarulHaqQasmi number of gentlemen in politics is fast depleting! pic.twitter.com/YavDSg8XOR
— Md Salim (@salimdotcomrade) December 7, 2018
مولانا اسرارلحق صاحب ایک ایسا گھنا سایہ دار درخت تھے جس کے تلے ملت نے کئی مراحل پار کئے اور پریشانی میں اس درخت کی چھاؤں میں سکون حاصل کیا، آج وہ گھنا سایہ سروں سے اٹھ گیا ہے اور پوری ملت اس سے محروم ہو گئی ہے ۔مولانا کمال کی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی شخصیت کے ایک سے ایک نمایا پہلو تھے وہ عالم دین تھے، سیاست داں تھے ، دانشور تھے ، کالم نگار تھے اور بہترین انسان تھے۔نرم مزاج، بردبار اور مشکل ترین حالات میں بھی کبھی پریشان نہ ہونا ان کی امتیازی پہچان تھی۔ان کے بعد ہمارے پاس بس ان کی علمی میراث، ان کے خطبات اور ان کی بلند شخصیت کے نمایا پہلو ہیں جن ک روشنی میں ہمیں اپنا مستقبل کا سفر طے کرنا ہے ۔مولانا کی پیدائش 1942 میں ہوئی تھی اور پسمنادگان میں ان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں.
Maulana #AsrarulHaqQasmi two time #MP alumnus of #DarulUloomDeoband life long dedicated true worker of #JamiatulUlemaEHind passed away today! We in #Ahmedabad will always remember his continuous support with his August presence during #1985 Riots pic.twitter.com/lGDUj19wZq
— zafar sareshwala (@zafarsareshwala) December 7, 2018
حضرت کی طبیعت بالکل اچھی تھی، کل شام کوانھوں نے اپنے قائم کردہ ادارہ دارالعلوم صفہ، ٹپو،کشن گنج میں منعقدہ ایک پروگرام میں شرکت کی اوروہاں طلباواساتذہ سے خطاب بھی کیاتھاـ مگرموت وحیات اللہ عزوجل کی مرضی ومقدرایں سے ہیں، چنانچہ بقضائے الہی حضرت مولانااس دارِ فانی سے رخصت ہوگئےہیں ـ حضرت مولانانے تقریباپچاس سال قوم وملت کی علمی، دینی، سماجی ورفاہی خدمات میں گزارا، آپ نے بہار،بنگال وجھارکھنڈمیں سیکڑوں مدارس ومکاتبِ دینیہ قائم کرکے جہالت کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے علاقوں میں علم کاچراغ روشن کیا اورآخری سانس تک قوم وملت کی ہمہ گیر خدمات میں مصروف و سرگرم رہےـ آپ صاحبِ تصوف وسلوک بھی تھے اور کبارمشائخ اوراولیاء اللہ کے ہاتھوں پربیعت وسلوک کی منزلیں طے کی تھیں ـ
ان شاء اللہ حضرت کی نمازجنازہ بعدجمعہ تین بجے ان کے آبائی وطن تاراباری، ٹپوضلع کشن گنج میں اداکی جائے گی اورمقامی قبرستان میں تدفین عمل میں آئے گی ـ رنج والم کی اس سخت گھڑی میں تمام برادرانِ اسلام سے گزارش ہے کہ حضرت کی مغفرت وبلندیِ درجات کی دعاؤں کے ساتھ حضرت کے اہلِ خانہ وجملہ پسماندگان کے لیےصبراستقامت کی خصوصی دعافرمائیں ـ
والسلام علیکم ورحمةالله وبركاته
نوشیراحمد
خادم حضرت مولانااسرارالحق قاسمی رحمةالله عليه وسکریٹری آل انڈیاتعلیمی وملی فاؤنڈیشن
Phone & whatsapp: 9818893994