دہلی الیکشن کا سبق ’لوگ‘سیکھنے کو تیار نہیں ہیں۔یہاں’ لوگ ‘ سے مراد سیاسی پارٹیاں اور سیاست داں ہیں ۔
دہلی الیکشن کا سب سے بڑا اور سب سے اہم سبق وہ ’ عوامی کرنٹ‘ ہے جو فرقہ پرستوں کو لگا ہے ۔ عوام نے انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما ، امیت مالویہ کی نفرت کی زبان اور جھوٹ کے پرچار کو ان ہی کے منھ پر دے مارا ہے ۔ ملک کے وزیرداخلہ نے شاہین باغ کو ’ کرنٹ‘ لگانے کی جو اپیل کی تھی اسے ان ہی پر پلٹ دیا ہے ۔ اور وزیراعظم نریندر مودی شاہین باغ کے تناظر میں اپنے ’ سنیوگ‘ اور ’ پریوگ‘ والے بیان کے ’ پریوگ‘ سے بچ نہیں سکے ہیں ۔ عوام نے نہ ہی ’غداروں ‘ کو ’گولی‘ ماری اور نہ ہی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو ’ دہشت گرد‘ مانا ، بلکہ بھاری تعداد میں گھروں سے باہر نکلے ، بوتھوں تک پہنچے اور ’ فرقہ پرستی‘ ’ نفرت‘ ’ شرانگیزی‘ اور سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر کے خلاف اور شاہین باغ کی حمایت میں اپنے ووٹ ڈال دیئے۔ جی ہاں ، یہ ووٹ صرف اروند کیجریوال کی صاف ستھری سرکار ، انتظامیہ اور ’وکاس‘ کے نام پر ہی نہیں پڑے ، یہ ووٹ شاہین باغ کی جرأت مند اور قوم پرست ، وطن دوست خواتین کے نام پر بھی پڑے ، کبھی جنہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی اور کبھی جنہیں بندوق اور گولی سے ڈرانے کی سعیٔ کی گئی۔ اوکھلا کا علاقہ جہاں شاہین باغ آتا ہے عام آدمی پارٹی (آپ) کے امانت اللہ خان کا سیاسی گڑھ رہا ہے ۔ ان کی جیت 71 ہزار ووٹوں سے ہوئی۔ ان کے حلقے میں ووٹ دینے والے مسلمانوں کی آبادی کا فیصد 40 ہے ، باقی 60 فیصد غیر مسلم ہیں ، نتائج سے خوب پتہ چلتا ہے کہ انہیں ووٹ دینے والوں میں صرف مسلمان ہی نہیں شامل تھے ۔ ان کے ووٹوں کا فیصد 66.03 رہا ۔ اور یہ صورت حال صرف اوکھلا ہی کی نہیں سارے دہلی کی تھی، ’آپ‘کے مسلم امیدواروں کو غیر مسلموں کے تو غیر مسلم امیدواروں کو مسلمانوں کے ووٹ حاصل ہوئے ۔۔۔ اگر ’ آپ‘ کے مجموعی ووٹ شیئر پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اسے 53.57 فیصد ووٹ حاصل ہوئے جو 2015 کے 54.43 فیصد کے مقابلے رتّی بھر کم ہے ۔ اس رتّی کو رائی کا پہاڑ بنایا جارہا ہے ۔ 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں اسے 16.32 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے اس کے مقابلے دہلی اسمبلی میں ملنے والے ووٹوں کا فیصد غیر معمولی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ لوک سبھا الیکشن اور دہلی الیکشن کے درمیان ’آپ‘ نے اپنے ووٹوں کے فیصد کو بڑھانے میں جو کامیابی حاصل کی ہے اس کے مقابلے بی جے پی جیسی ’ قومی سطح‘ کی سیاسی پارٹی کا ووٹ شیئر فیصد ’شرمناک‘ بلکہ چلّو بھر پانی میں ڈوب مرنے جیسا ہے تو غلط نہیں ہوگا ۔ یہ وہی بی جے پی ہے جسے 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں دہلی میں 50.88 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے جو اسمبلی الیکشن میں گھٹ کر 38.51 فیصد پر آگیا ۔
ہاں 2015 کے دہلی الیکشن کے مقابلے اس میں معمولی سا اضافہ ضرور ہوا ہے ، اس وقت فیصد 32.69 تھا ، لیکن یہ اضافہ ’ معمولی‘ ہی کہلائے گا ، اس کی بنیاد پر کسی تجزیۂ نگار کا یہ کہنا قطعیٔ درست نہیں ہوگا کہ بی جے پی کو اپنے زہریلے اور نفرت بھرے نظریات کو پھلانے میں ایسی کامیابی ملی ہے کہ ووٹر اس کی طرف راغب ہوگئے ہیں ۔۔۔’آپ‘ اور بی جے پی کے ووٹ شیئر میں کمی اور زیادتی کا ایک سبب دہلی میں ان ووٹروں کا موجود نہ ہونا بھی ہوسکتا ہے جو اگر ووٹ دیتے تو ’آپ‘ ہی کو دیتے ۔۔۔ یہاں کانگریس کا ذکر اس لئے نہیں کیا جارہا ہے کہ وہ اس الیکشن میں ایک طرح سے ’غائب‘ ہی تھی۔ اسے جو 4.26 فیصد ووٹ ملے وہ یقیناً ان افراد کے تھے جو خالص کانگریسی تھے اور اگر وہ ’آپ‘ کو ووٹ نہیں دینا چاہتے تھے تو بی جے پی کو تو قطعی ووٹ دینے کو تیار نہیں تھے ۔کانگریس کے یہ 4.26 فیصد ووٹ بھی ’ نفرت‘ اور فرقہ پرستی، کے خلاف ہی پڑے ہیں اور یہ بات بھی پورے دعوے کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ 2019ء کے لوک سبھا الیکشن میں دہلی میں 20.5 فیصد ووٹ لینے والی کانگریس کے ووٹ ۔۔۔ 4.26 کو چھوڑ کر ۔۔۔ اگر گئےہیں تو’آپ‘ کو زیادہ گئے ہیں ،
بی جے پی کی جھولی میں مشکل ہی سے کچھ ووٹ آئے ہونگے ، اس لئے کانگریس کے ووٹوں کا شیئر فیصد کم ہونا بی جے پی کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہے ۔۔۔ آپ کی 62 سٹوں کا مطلب ہوتا ہے 90فیصد ، اور بی جے پی کی دس سیٹوں کا مطلب ہوتا ہے 10فیصد، یہ بہت بڑا فرق ہے ، جو آسانی سے پٹنے والا نہیں ہے ۔ یہ سارے اعدادوشمار پیش کرنے کا مقصد دہلی کے اس سبق کو اجاگر کرنا ہے جس کا تذکرہ اوپر آچکا
ہے ۔
یہ سبق کہ نفرت کی سیاست پر دہلی والوں نے محبت اور وکاس کی سیاست کو ترجیح دی ہے ۔ کیجریوال کے بقول یہ ایک نئی طرح کی سیاست ہے ۔ اور ماضی اس کا شاہد ہے کہ جب بھی کوئی نئی طرح کی سیاست چلتی ہے تو وہ ایک جگہ نہیں رکتی بلکہ وہ آگےبڑھتی رہتی ہے ، لہٰذا اگر یہ امید رکھی جائے کہ بہار اور مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں بھی نئی طرح کی اسی سیاست کا زور ہوگا تو کچھ غلط نہیں۔ مگر کچھ سیاست داں اور چند سیاسی پارٹیاں ہیں جو دہلی اسمبلی کے الیکشن کے اس سبق کو سیکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ بات ریاست مہاراشٹر سے شروع کرتے ہیں ، پھر بات بہار کی کریں گے جہاں اکتوبر 2020 میں اسمبلی کے لئے الیکشن ہونا ہیں ۔۔۔ دہلی الیکشن میں بی جے پی نے شاہین باغ اور سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر کو ایک بڑا انتخابی موضوع بنایا تھا ۔ شاہین باغ کا مطلب ’ ملک کے غدار‘ تھا ، اسی طرح سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت ملک دشمنی تھی۔ اس لئے انوراگ ٹھاکر نے ’ دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو ‘ کا زہریلا نعرہ بلند کیا تھا اور امیت شاہ نے بابر پور ، کونڈلی وغیرہ کے الیکشن جلوسوں میں کہا تھا کہ ’ کنول کے نشان پر بٹن ضرور دبانا مگر اتنے غصے سے دبانا کہ بٹن بابر پور میں دبے اور کرنٹ شاہین باغ میں لگے ۔‘ یہ خالص نفرت کی زبانیں تھیں ، مقصد صرف یہ تھا کہ ہندو اور مسلم کی بنیاد پر دہلی کے لوگوں کو تقسیم کردیا جائے اور ووٹ حاصل کرکے کیجریوال کی جگہ کسی بھاجپائی کو مسند پر بٹھادیا جائے ۔ پر شاہین باغ ، سی اے اے ، این سی آر اور این پی آر کے نام پر نفرت پھیلانے کی ساری کوششوں پر دہلی کے ہندوؤں ، مسلمانوں ، سکھوں وغیرہ نے پانی پھیر دیا اور بی جے پی کو یہ جتلادیا کہ شاہین باغ کے لوگ ’غدار‘ نہیں ہیں اور سی اے اے کے خلاف مظاہرہ ملک دشمنی نہیں ہے ۔ اب مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے سرکاری افسروں کی ایک میٹنگ طلب کرکے این پی آر پر عملدرآمد کے لئے تیاریوں کا جائزہ لیا ہے ۔
ادھوٹھاکرے نے اپنے ارادے سنیچر ۱۵؍ فروری کو ظاہر کئے جب ممبئی میں ’الائنس اگنیسٹ سی اے اے، این آرسی ، این آرپی‘ کی جانب سے آزاد میدان میں احتجاجی مظاہرہ کیا جارہا تھا جس میں مسلمانوں کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں دلت اور غیر مسلم شامل تھے ۔ ادھو ٹھاکرے مہاراشٹر پر راج نہ کرپاتے اگر انہیں کانگریس اور این سی پی نے حمایت نہ دی ہوتی ۔ بی جے پی آخر تک اڑی رہی کہ مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ فڈنویس ہی بنیں گے ۔
شیوسینا کو کانگریس اور این سی پی نے ’ سہارا‘ دیا اور یہ ’ سہارا‘ سیکولر بنیادوں پر تھا مگر اب این پی آر کی حمایت کرکے بلکہ اسے ریاست میں لاگو کرنے کا اعلان کرکے ادھو ٹھاکرے نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنا رنگ بدل نہیں سکتے ۔ یہ کانگریس اور این سی پی سے غداری ہے ۔ بہت ممکن ہے کہ انہوں نے اندر ہی اندر بی جے پی سے کوئی ’سمجھوتہ‘ کرلیا ہو، ممکن ہے کہ بی جے پی نے انہیں یہ پٹّی پڑھائی ہو کہ وہ کانگریس اور این سی پی سے چھٹکارہ حاصل کرلیں ، انہیں حمایت مل جائے گی ۔ اگر ایسا ہوا ، ادھو بی جے پی کے اشارے پر چلے تو اسے ان کی ’ سیاسی بے عقلی‘ کے سوا اور کچھ نہیں کہا جائے گا کیونکہ بی جے پی کبھی بھی شیوسینا کو اپنے سے ’ برتر‘ ہونے کی اجازت نہیں دے گی اور ادھو کی رسّی ایک ایسے موقع پر کھینچ لے گی جب ان کے پا س کوئی ’ سہارا‘ بچا ہوا نہیں ہوگا ۔ سی اے اے ، این آرسی اور این پی آر کی ’ حمایت‘ شیوسینا کی سیاسی موت ہوگی ، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کے چچازاد بھائی راج ٹھاکرے جو مہاراشٹر نونرمان سینا (منسے) کے سربراہ ہیں ، اپنی ’ مردہ‘ پارٹی میں روح پھونکنے کے لئے سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کی ’متشددانہ حمایت‘ کا اعلان کرچکے ہیں بلکہ اس پر انہوں نے عمل شروع کردیا ہے ۔ ’ منسے‘ کے بریگیڈ جھگی جھونپڑوں اور بستیوں میں جاکر ’پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں‘ کو تلاش کرنے لگے ہیں ، اس کے لئے انہیں بی جے پی کا ’سہارا‘ بھی حاصل ہے ۔ گویا یہ کہ بی جے پی نے اس طرح راج اور ادھو کو سامنے کرکے ایک ہی تیر سے دوشکار کرنے کا منصوبہ بنالیا ہے ۔۔۔ ایسے میں اگر ادھو نے کانگریس اور این سی پی کا ہاتھ چھوڑا تو وہ تو ایک دفعہ وزیراعلیٰ بن گے پھر شاید ہی ٹھاکرے خاندان سے کوئی وزیراعلیٰ بن سکے ۔
بہار میں نتیش کمار بھی ۔۔۔ جنہیں اب ’ پلٹورام‘ کہا جانے لگا ہے ۔۔۔ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر پر اپنے دامن کو صاف نہیں کرسکے ہیں ۔ دہلی الیکشن میں تو باقاعدہ انہوں نے بی جے پی کی حمایت کی تھی ۔ دہلی میں بی جے پی کی حمایت کا سیدھا مطلب شاہین باغ والوں کو’غدار‘ ماننا اور سی اے اے ، این آر سی واین پی آر کے مخالفین کو ’ ملک دشمن‘ سمجھنا ہی ہوا ۔۔۔ نتیش کمار کے دو ذہین ساتھیوں پر شانت کشور اور پون کمار ورما نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی، پرشات کشور نے تو یہاں تک کہا تھا کہ جس طرح کیرالہ اور مغربی بنگال وغیرہ کی اسمبلیوں میں سی اے اے کی مخالفت میں تحریک منظور کی گئی ہے بہار اسمبلی میں بھی منظور کرائیں ، لیکن نتیش کمار تو بالکل ادھو ٹھاکرے کی طرح این پی آر کرانے کی تیاریوں میں جٹے ہیں ! پرشانت کشور اور پون کمار ورما کو انہوں نے پارٹی سے برخاست کردیا ہے ۔۔۔ ادھو اور نتیش کمار کے لئے ہنوز وقت ہے ، اگر انہوں نے ہوش سے کام نہیں لیا این پی آر لاگو کرنے پر عملدرآمد کیا تو دونوں ہی ریاستوں کے حالات کشیدہ ہوسکتے ہیں ۔ اور یاد رہے کہ نئی دہلی سے جو نئی طرح کی سیاست شروع ہوئی ہے اس میں زہریلی باتیں اور نفرت کی بولی نہیں چلنے والی ۔۔۔۔ ان کے ہاتھ پچھتاوے کے سوا اور کچھ نہیں آئے گا ۔