اورنگ آباد:(جمیل شیخ): غیر قانونی کاروبار اور رشوت ستانی کو ختم کرنے کے لئے شہر میں متعدد طریقے پولس کے توسط سے استعمال کئے جارہے ہیں ان میں ہیلمیٹ بھی شامل ہے۔ ہیلمیٹ کی سختی اور قانون کے خلاف ورزی کے نام پر پولس کی جانب سے ہراسانی کا سلسلہ جاری ہے۔ اور عوام کی جانب سے بھی ہیلمیٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ اس لئے کہ پولس کی طرف سے حفاظتی نقطہ نظر سے ہیلیمٹ کو لازمی قرار دیاگیا ہے۔ اور پولس اس معاملے میں موٹر سائیکل سواروں سے سختی کرکے جرمانہ وصول کررہی ہے یقینا اپنے تحفظ کے لے ہیلمیٹ لازمی ہے لیکن دیگر اصول وضوابط کو پولس مکمل طور پر نظر انداز کررہی ہے حالانکہ ٹرافک کے قوانین پر آمدورفت کے وقت عمل آوری ضروری ہے اور ٹرافک پولس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آمدورفت کے قوانین پر لوگوں کو عمل کرنے کے لئے مجبور کریں۔ اس موقع پر کہاگیا ہے کہ پولس کو صرف ضابطہ کی کاروائی کی اجازت ہے او رپولس ایکٹ۴۶ کے تحت ہی وہ کاروائی کرسکتی ہے
پولس کو حکم دیاگیا ہے کہ وہ راستہ کے کنارے اور دائیں جانب کھڑے ہوں اور لوگوں کو پابند کریں کہ وہ دائیں جانب سے گاڑیاں چلائیں سگنل کے اصولوں کو نہ توڑیں گاڑیوں کی رفتار ضابطہ کے مطابق ہی رہیں اس وقت گاڑیوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا ہے اس لئے ٹریفک پولس کی تعداد میں بھی اضافہ لازمی دیاہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ۸۱۰۲ میں اس قانون پر سختی سے عمل آوری کے لئے کہاگیا ہے پولس نے اپنی ذمہ داری ادا نہک تے ہوئے گذشتہ ایک سال کے دوران زیادتیاں کی ہیں اس لئے پولس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ضابطہ کے مطابق ہی کاروائیاں کریں خواہ مخواہ لوگوں کو ہراساں نہ کریں۔