اورنگ آباد نام تبدیلی معاملہ سپریم کورٹ سے خارج

✍️ سلیمان شاہین

این سی پی اورنگ آباد اور عثمان آباد والے معاملے کو الیکشن سے پہلے ہی ختم کردینا چاہتی تھی تاکہ گلے میں پڑا طوق اتر سکے. عثمان آباد والے معاملے میں بھی پیٹینشر کا تعلق این سی پی سے تھا. جنھوں نے سپریم کورٹ میں انتہائی لاپرواہی برتی کیس آن لائن فائل ہوا، سنوائی ویڈیو کال پر ہوئی جس میں اکثر مرتبہ وکیل کا مائک بند ہو جاتا تھا بلآخر سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنادیا، یہی کھیل پھر اورنگ آباد کے ساتھ کھیلا گیا،آناً فاناً چار پانچ روز میں فیصلہ لینا اور پیٹیشن داخل بھی کردینا پھر موقع سے خود غائب رہ کر وکیل نے بھی غیر حاضر رہنا! کئی سوالات کھڑے کرتا ہے!

عثمان آباد نام تبدیلی معاملے پر جس بینچ نے فیصلہ دیا تھا جان بوجھ کر عجلت کرتے ہوئے اس ہی بینچ کو اورنگ آباد نام تبدیلی کی فائل سونپیں گئی.اورنگ آباد نام تبدیلی معاملہ کے خلاف ہائیکورٹ سے نا امید ہونے کے بعد ایک امید سپریم کورٹ سے باقی رہ گئی تھی جہاں اپنی نمائندگی درج کرانے کے لیے گزشتہ دنوں مسلم نمائندہ کونسل نے شہر کے باثر افراد سے گفت و شنید کی اور ایک اجلاس طلب کیا جس میں ہائیکورٹ میں جتنے پیٹینشر تھے

سب کو مدعو کیا تھا تاکہ سپریم کورٹ جانے کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی طئے کی جاسکے لیکن این سی پی کے مشتاق احمد جو ہائی کورٹ میں بھی پیٹینشر تھے اس اجلاس سے غائب رہے، اُن سے کونسل نے اور ہشام عثمانی نے بات کی تو اس وقت انھوں نے کہا تھا کہ میرا سپریم کورٹ جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، تب کونسل و دیگر احباب نے ہشام عثمانی کی تائید کی جو پہلے سے سپریم کورٹ جانے کی تیاری کررہے تھے، ہشام عثمانی نے جب کیس فائل کیا اس کے چند ہی روز بعد عثمان آباد کی فائل سپریم کورٹ نے خارج کردی تھی۔

جس کے بعد ہشام عثمانی نے اس معاملے کو طول دیا اور، اورنگ آباد نام والے معاملے میں کاروائی کو چند دنوں کے لیے مؤخر کیا، ہم نے اس وقت ہشام عثمانی سے ملاقات کی تھی اور اورنگ آباد نام تبدیلی معاملے کو طول دینے کی وجہ پوچھی تھی؟انھوں نے کہا تھا کہ حال ہی میں عثمان آباد والے معاملے میں سپریم کورٹ نے فوراً رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سرے سے کیس خارج کردیا تھا.

جس بینچ نے یہ فیصلہ دیا تھا اکتوبر میں اس کی تبدیلی کا یقین ہے، اس لیے یہ حکمتِ عملی اپنائی گئی کہ اس معاملے کو اکتوبر تک روک کر رکھتے ہیں نئی بینچ آئے گی تو شاید کچھ مثبت فیصلہ ہوسکے، یقیناً اس معاملے میں امید بالکل نہیں تھی پھر بھی حکمت عملی ضرور اپنائی جانی تھی کیا پتہ کب اور کس سے کیا کام ہو جائے، اس معاملے میں سوچ سمجھ کر قدم رکھا جانا چاہئے تھا، یہ ایک آخری موقع تھا جسے اپنے ہی چند لوگوں نے اپنے آقاؤں کے اشاروں پر ختم کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کو کس نے حق دیا بغیر کسی سے مشورہ کیئے سپریم کورٹ جانے کے لیے؟؟.

ہائیکورٹ میں بھی اسی طرح اورنگ آباد نام تبدیلی کیس کو کھیل بنایا گیا، ایک کے بعد ایک کورٹ میں فائل داخل کی گئی نا اہل وکیلوں سے کیس لڑوایا گیا، بغیر کسی حکمتِ عملی کے جان بوجھ کر اس میں غفلت برتی گئی۔پھر سپریم کورٹ جانے کی جب باری آئی شہر کےلوگ سر جوڑ کر بیٹھے تب وہاں سے مشتاق احمد صاحب کیوں غائب رہے؟

`جب مشتاق احمد صاحب سے پوچھا گیا کہ کیا آپ سپریم کورٹ میں کیس داخل کررہے ہیں؟`
`تب انھوں نے انکار کردیا تھا اب اچانک آناً فاناً کس کے اشارے پر کس کے کہنے پر ایک ہی ہفتے میں فیصلہ بھی لیا کیس داخل بھی کردیا فیصلے کے وقت خود غیر حاضر رہے وکیل بھی غائب رہا اور اورنگ آباد جو ایک تہذیب و ثقافت کا علمبردار ہے اس کو خود اپنے ہاتھوں مٹاکر آگئے!

یاد رکھے چند مفادات کی خاطر اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے این سی پی کے جتنے بھی لوگوں نے اورنگ آباد نام میں آخری کیل ٹھونکے تاریخ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ہم ختم ہو جائیں گے تم بھی نہیں رہو گے لیکن آنے والی نسلیں جب تاریخ کے اوراق پلٹے گی تو وہ پڑھے گی کہ ہماری تہذیب، ہماری شناخت، ہماری پہچان، ہماری تاریخ، ہماری شان، ہمارا تمدّن، ہماری ثقافت کو مٹانے میں کن کن لوگوں نے سازش رچی تھی،

اپنوں میں کتنے منافق تھے، کون لیڈران تھے جنہوں نے غیروں کا ساتھ دیا، کس نے محض اپنی واہ واہی بٹوری کرسی پر رہتے ہوئے بھی اپنی جانب سے کوئی آبجیکشن داخل نہیں کیا، تمام کو تاریخ ایک بدنما داغ کی طرح یاد رکھے گی کیونکہ تم نے محض ایک شہر کے نام کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیا بلکہ ہماری پہچان ہماری شناخت کو روندا ہے.

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading