اورنگ آباد:کارپوریٹر کی بروقت کاروائی سے کبیر نگر علاقہ کے ساکنان کو راحت
ڈرینج اور واٹر سپلائی پائپ لائن پر انڈر گراﺅنڈ کیبل کا کام رکوادیاگیا
اورنگ آباد:(جمیل شیخ): کارپویٹر کی بیداری کے سبب کبیر نگر علاقہ میں ڈرینج اور واٹر سپلائی پائپ لائن پر ڈالے جارہے انڈر گراﺅنڈ کیبل کا کام روک دیاگیا۔واضح رہے کہ بجلی سپلائی کمپنی کی جانب سے سارے شہر میں انڈر گراﺅنڈ کیبل ڈالنے کا کام جاری ہے۔ جس کے تحت ریلوے اسٹیشن ایم آئی ڈی سی ایریا میں بجلی سپلائی کرنے کے لئے ہائی ٹینشن کیبل وائر زمین میں بچھایا جارہا ہے جس کے لئے بجلی سپلائی کمپنی کے انجینئرس کی نگرانی میں متعلقہ ٹھیکیدار نے کبیر نگر علاقہ میں جدید مشینوں کے ذریعہ سڑک کے کنارے کھودنے کا کام شروع کیا ہے۔ اور تقریباً۰۰۵ میٹر لمبی نالی کی کھدائی بھی کر ڈالی۔ اتفاق سے وہاں علاقے کے کارپوریٹرراہل سونونے کا گزر ہوا او رانھوں نے متعلقہ افسران سے اس کام سے متعلق معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ انڈر گراﺅنڈ کیبل وائرنگ کے لئے سڑک کھودی جارہی ہےے۔ جس پر انھوں نے سخت اعتراض جتایا اور متعلقہ افسران کو بتایا کہ وہاں سے ڈرینج لائن اور واٹر سپلائی لائن گزررہی ہے اور وہ لوگ ان دونوں پائپ لائن کے اوپر ہائی وولٹیج کیبل وائر کس طرح بچھا سکتے ہیں۔ اگر علاقہ کو پانی سپلائی کرنے والی لائن پھوٹ جاتی ہے یا پھر ڈرینج لائن بند ہوجاتی ہے تو وہاں مرمت کا کام کس طرح سے کیا جاسکتا ہے جس پر بجلی سپلائی کمپنی کے متعلقہ انجینئرنے بتایا کہ یہ کام میونسپل انجینئرس کے ساتھ جوائنٹ انسپکشن کرنے کے بعد ہی کیا جارہا ہے جس پر کارپوریٹر راہل سونونے شدید برہم ہوئے اور انھوں نے کام رکوادیا۔ جس کے بعد بجلی سپلائی کمپنی کے انجینئر نے میونسپل وارڈ آفیسر کو وہاں بلوایا۔ وہاں کا معائنہ کرنے کے بعد متعلقہ وارڈ انجینئر نے صاف طور پر کہا کہ ان لوگوں نے یہاں کھدائی کی اجازت نہیں دی ہے لہذا وہاں کیبل وائرنگ کا کام روک دیاگیا ہے۔ اہم بات تو یہ ہے کہ کھدائی کے دوران وہاں ڈالی گئی انڈر گراﺅنڈ ڈرینج لائن کو بھی نقصان پہنچا ہے جو اب تک شروع بھی نہیں کی گئی۔
اورنگ آباد:سکند رعلی وجدمیموریل ٹرسٹ اورنگ آباد کے زیر اہتمام اردو زبان کی موجودہ صورتحال پر کامیاب مذاکرہ کا انعقاد

اورنگ آباد:(جمیل شیخ):سکندر علی وجدمیموریل ٹرسٹ اورنگ آبادکے زیر اہتمام مولانا آزاد ریسرچ سینٹر مجنوں ہل پر ایک علمی مذاکرہ بعنوان”اردو زبان کی موجودہ صورتحال“ منعقد کیاگیا۔جس میں اعظم کیمپس پونہ سے تشریف لائے پی اے انعامدار نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ اردو داں طبقہ اپنی زبان کے تئیں احساس کمتری کا شکار ہے ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اردو زبان کو ترقی کی زبان نہیں سمجھتے ہم اسے دوسرے درجہ پر رکھتے ہیں ۔اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم سے تعلیم دلواکر ترقی کروانا چاہتے ہیں۔ انہو ںنے پونہ کارپوریشن اسکولس میں اردو سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس پرائمری اسکول کے طلبہ کی ای میل آئی ڈی ہے وہ کمپویٹر سافٹ ویئر اور ہارڈویئر کا علم رکھتے ہیں۔ آج کی نسل ٹیکنالوجی کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔ انہیں مواقع فراہم کریں۔ آپ کسی بھی زبان میں تعلیم دیں لیکن اردو زبان کے فروغ کے لئے ایسا کوئی راستہ نکالے کہ ہر بچہ دیگر زبانوں کے ساتھ اردو بھی سیکھیں ہماری موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ہم اردو کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ڈاکٹر انتخاب حمید نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ہندوستان میں ایسے بے شمار ادباءشعراءگذرے ہیں جن کا مذہب اسلام نہیں تھا اس لئے ان کی زبان کو مسلمانوں سے جوڑنا یہ اردو زبان کی توہین ہیں۔ڈاکٹر ارتکاز افضل نے بھی اردو کی ترویج اور اس کی بقاءکے سلسلہ میں اپنی پرمغز تقریر کے دوران کہا کہ حالانکہ ہم نے ۵۳ سال سے زائد انگریزی زبان کی تدریس کی لیکن انگریزی زبان ہمارا ذریعہ معاش رہی اور اردو ہماری محبت اردو زبان میں ہی ہم لکھتے پڑھتے اور شاعری کرتے ہیں اوراسی کی بقاءکے لئے سرکردہ ہیں۔پروگرام کے ابتداءمیں آئی آر ایس موظف انکم ٹیکس کمشنر اور مشہور شاعر ونود کمار ترپاٹھی بشرکے شعری مجموعہ ”میری زمین میرا آسمان“ کا رسم اجراءعمل میں آیا اس موقع پر معروف اردو شاعر ونقاد پروفیسر ارتکاز افضل نے ونود ترپاٹھی بشر کی شاعری پر پرمغز اظہار خیال کیا۔انہو ںنے بشر کے شعری ماحصل پرروشنی ڈالتے ہوئے بشر کو منفرد لب ولہجہ کا شاعر قرار دیا۔ انہو ںنے بشر کو غزل کا مزاج داں قرار دیتے ہوئے ان کی نظموں میں عصری حیثیت کی جانب بھی اشارہ کیا۔ ڈاکٹر سلیم محی الدین نے اپنے مقالہ میں بشر کی غزل کا احاطہ کرتے ہوئے ان کے کلام میں زبان کے خلاقانہ استعمال اور لہجہ کے انفرادیت کو سراہا ۔صاحب اعزاز جناب ونود کمار ترپاٹھی بشر نے دوران خطاب اردو سے اپنی محبت اور والہانہ لگاﺅ کا ذکر انتہائی دلچسپ انداز میں کیا۔
انہو ں نے کہا کہ میں زبان وبیان سے زیادہ سچے اظہار کا قائل ہوں اور زندگی کے تجربات کو شاعری میں سموتا ہوں۔سامعین کے اسرار پر انہوں نے چند غزلیں بھی سنائی جس پر انہیں دادوتحسین سے نوازا گیا۔ اس موقع پر اعظم کیمپس پونہ اور سروش ایجوکیشنل کیمپس سے کمپیوٹرسافٹ ویئر اور ہارڈویئر تربیت یافتہ طلبہ وطالبات کا علمی مظاہرہ بھی پیش کیاگیا جس میں طلبہ نے کمپیوٹر کے تمام پارٹس کی معلومات دینے کے ساتھ ساتھ اس کے تمام پرزوں کو الگ الگ کرکے دوبارہ جوڑا۔طلباءکی صلاحیتوں کے حیر ت انگیز مظاہروں کے دوران پی اے انعامدا ر نے کہا کہ کمپیوٹر جدید ٹکنالوجی سے رابطہ کا اہم ترین وسیلہ ہے اور آہستہ آہستہ موبائل بھی کمپیوٹر کی جگہ لینے جارہا ہے۔ عصری زندگی میں ہی کمپیوٹر ترقی کا وسیلہ ہوگا۔ اس لئے ہمیں نئی نسل کو اس سے واقف کروانا ضروری ہے۔صدر جلسہ ستیش ترپاٹھی نے اپنے کلیدی خطاب میں انہوں نے حقائق کی روشنی میں اردو زبان وادب کی ترقی وترویج کے لئے سر جوڑ کر بیٹھنے اور عملی کاوشوں کے لئے دردمندانہ اپیل کی انہو ںنے مذاکرہ کے شرکاءاور حاضرین سے ایک لانئحہ عمل تیار کرنے کو کہا اور یقین دہانی کی کہ ان کی تجاویز پر مثبت عمل درآمد ہوگا۔ علمی مذاکرہ میں موجود تمام شرکاءڈاکٹر اسلم مرزا،ڈاکٹر عبدالرشید مدنی، ڈاکٹر سلیم محی الدین، ڈاکٹر رضوانہ شمیم، نے اردو کی ترقی وترویج کے لئے تجاویزات پیش کیںجس کا تمام نے خیر مقدم کیا۔اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں محبوب خان پٹھان اور سرتاج خان کے علاوہ سکندر علی وجد میموریل ٹرسٹ کے دیگر ذمہ داران نے اہم رول ادا کیا۔بعد ازاںڈاکٹر سلیم محی الدین کے شکریہ پر اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔
اورنگ آباد:دیڑھ سال بعد سدھارتھ گارڈن کی شیرینی نے چار بچوں جنم دیا
اورنگ آباد:(جمیل شیخ): دیڑھ سال بعد سدھارتھ گارڈن کے زو میں سمردھی نامی شیرنی نے چار بچوں کو جنم دیا جس پر میئر کمار گھوڑیلے کے علاوہ یہاں کے اسٹاف ممبران نے خوشی ومسرت کا اظہار کیا۔ زو انتظامیہ سے موصولہ اطلاع کے مطابق ۶۲اپریل کی شب ۷ تا ۱۱ بجے کے درمیان سمردھی شیرنی نے چار بچوں کو جنم دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آج سے چار ماہ قبل سدھارتھ اور سمردھی اس جوڑے کو ملاپ کا موقع دیاگیا تھا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے اور آٹھ سالہ سمردھی نے چار بچوں کو جنم دیا جس میں سے دو بچے سفید اور دو بچے پیلے ہیں چاروں نومولود صحتمند اور تندرست ہے جن کی نگہداشت ماہرین کررہے ہیں۔ سدھارتھ گارڈن چڑیا گھرمیں نئے مہمانوں کی آمد کی خبر پاتے ہی میئر نند کمار گھوڑیلے سدھارتھ گارڈن پہنچے اور اسٹاف میں مٹھائیاں تقسیم کیں۔ انھوں نے اعتماد نیوز کو بتایا کہ آج سے چار ماہ قبل سچن نامی شیر کی موت واقع ہوگئی تھی جس کے بعد چڑیا گھر میں۸ شیر باقی بچے تھے جن میں ایک وہائٹ ٹائیگر اور ۷ پیلے شیرتھے مگر اب سمردھی نے چار بچوں کو جنم دے کر چڑیا گھر کی رونق میں اضافہ کیا ہے۔ ویٹرنی اافیسر ڈاکٹر نیتی سنگھ چوہان نے بتایا کہ سدھارت اور سمردھی دونوں سفید ٹائیگر نسل سے ہیں مگر ان کے ملاپ سے جو بچے پیدا ہوئے ہیں ان میں دو سفید اور دو پیلے ہیں ہوسکتا ہے کہ سدھارتھ یا سمردھی کی نسل میں کوئی مادہ شیرنی کا تعلق یلو ٹائیگر نسل سے ہوا ہوگا۔ ان نئے چار مہمانوںکے آجانے کے بعد اب سدھارتھ گارڈن چڑیا گھر میں شیروں کی تعداد ۲۱ ہوگئی ہے اور مستقبل میں سفاری پارک کے لئے ریاست کے دیگر چڑیا گھر کو ان میں سے کچھ شیر دے کر ان کے عوض بھالو اور دیگر جنگلی جانور یہاں لائے جاسکتے ہیں گارڈن سپرنٹنڈنٹ وجئے پاٹل جن کے پاس زو ڈائریکٹر کا اضافی چارج ہے ان کی ن گرانی میں ڈاکٹر نیتی سنگھ چوہان ڈاکٹر نندن اور فیاض خان سمردھی اور اس کے نومولود بچوں کی نگہداشت کررہے ہیں۔
اورنگ آباد شہر کا پارہ45 ڈگری کے پار‘شہریان گھر میں قید رہنے پر مجبور
پانی کی تلاش میں شہریان دردر بھٹکنے کے ساتھ ٹینکر خریدنے پر مجبور
اورنگ آباد:(جمیل شیخ): شہر اورنگ آباد میں درجہ حرات آج 45 ڈگری سیلسی اس تک پہنچ چکا تھا جس کی وجہ سے لوگ ہلکان دکھائی دئے۔ اس سال موسم گرما شہر اورنگ آباد میں آج کا دن اب تک کے سبھی دنوں میں سب سے گرم رہا۔ آج 28اپریل 2019کو صبح سے ہی حرارت محسوس کی گئی اور پھر پارہ تیزی سے چڑھنے لگا۔ درجہ حرارت بڑھ جانے کی وجہ سے مختلف بیماریاں جنم لے رہی ہیں او رسرکاری وخانگی ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے۔ موسم گرما میں لوگ سن اسٹروک سے متاثر ہورہے ہیں اور جسم میں پانی کی کمی واقع ہوجانے کی وجہ سے بھی لوگ بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں کہیں پانی کی قلت ہوجانے پر عوام بیمار ہورہے ہیں کہیں آلودہ پانی پینے کے سبب او رکہیں شدید پیاس لگنے پر فریج کا ٹھنڈا پانی سے یا پھر برف ڈال کر انتہائی ٹھنڈا پانی پینے سے بھی لوگ بیماری ہورہے ہیں اسی طرح برف کے گولے کھانے لیمو شربت پینے اور گنے کے رس میں برف ملاکر پینے سے بھی لوگ کئی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں جن میں بچوں کا بھی شمار ہےے۔ کارخانوں میں اکثر برف کھارے پانی سے بنائی جاتی ہے پانی کو جراثیم سے پاک رکھنے لئے بھی انتظامات کم ہی کئے جاتے ہیں اور ٹن سے بنے جن سانچوں میں پانی ڈال کر برف بنائی جاتی ہے وہ سانچے بھی اکثرزنگ آلود دیکھے گئے ہیں لہذا ڈاکٹروں کے مطابق موسم گرمامیں برف کا کثرت سے استعمال بیماریوں کو دعوت دیتا ہے لہذا جہاں تک ممکن ہو مٹی سے بنائے گئے گھڑوں کا پانی پینا چاہئے جبکہ پانی صاف کرنے کے لئے اسمیں کلورین کے قطرے یا پھٹکری ڈالی جائے۔ پانی چھان کر بھرا جائے۔ دھوپ میں باہر نکلتے وقت کان اور سر اچھی طرح ڈھانک لئے جائیں سفید کپڑے پہنے جائیں اور سفید رومال استعمال میں لائے جائیں۔بغیر کسی بڑی وجہ سے یاضرورت کے دھوپ میں گھر سے نکلا جائے۔ پانی زیادہ اور بار بار پئیں پانی میں شکر اور نمک گھول کر پئیں عمدہ کوالٹی کا شربت پئیں اور جہاں تک ممکن ہو مرغن غذا سے پرہیز کریں اور ہری سبزیاں کھائیں۔ اور کسی بیماری سے شکایت ہونے پر فوری قریبی اسپتال پہنچیں۔آئے دن گرمی میں اضافہ ہونے لگا ہے او رپارہ اوپر چڑھتا جارہا ہے جس کی وجہ سے شہر میں پانی کی مانگ میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے اور لوگ پانی کی تلاش میں دربدر بھٹکتے دکھائی دے رہے ہیں۔ شہر اورنگ آباد میںعوام کی پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے جائیکواڑی ڈیم سے یومیہ ۰۵۱ ایم ایل ڈی پانی لفٹ کیا جاتا ہے جو شہر پہنچنے تک ۰۱۱ ایم ایل ڈی باقی رہ جاتا ہے جس کی وجہ سے شہر میں پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور شہریان کی پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تین دن کے وقفہ سے پانی سپلائی کیا جاتاہے۔ مگر ڈسٹری بیوسن سسٹم کی خامیوں کے سبب شہر کے بیشتر علاقوں میں سات سات اور آٹھ آٹھ دن تک پانی سپلائی نہیں ہوپاتا جس سے شہریان میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے مگر میونسپل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جب تک پیرلل پائپ لائن پروجیکٹ پورا نہیں ہوجاتا تب تک شہرمیں پانی سپلائی متاثر رہیگی آئے دن گرمی میں اضافہ ہونے لگا ہے اور پارہ اوپر چڑھتا جارہا ہے آج پارہ ۵۴ ڈگری سیلسی اس تک پہنچ گیا دھوپ کی تمازت اور گرمی کی شدت سے پانی کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے لہذا پانی حاصل کرنے کے لئے شہریان دربدر بھٹکنے لگے ہیں سڈکو این ۷ کی پانی کی ٹانکی پر خواتین اور بچوں کے علاوہ دیگر افراد وہاں بھرے جانے والے ٹینکرس پر ٹوٹ پڑنے لگے ہیں ۔اور چلچلاتی دھوپ میں دور دراز کے مقامات سے سر پر ہنڈے اور کین لےکر وہاں پہنچنے لگے ہیں اور ٹینکر میں پائپ ڈال کر پانی حاصل کرنے لگے ہیں تاکہ کس طرح ان کی پانی کی ضرورت پوری ہوسکے مگر عوامی نمائندوں اور متعلقہ افسران کو شہریان کی پریشانی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے جس سے شہریان میں میونسپل انتظامیہ کے تئیں ناراضگی بڑھنے لگی ہے۔