اورنگ آباد زنجیری احتجاج تیسرے دن میں داخل

اورنگ آباد: دہلی کے شاہین باغ میں گزشتہ 27 دنوں سے دستور ہند کی روح کی منوواد لنچنگ اور شہریت ترمیم قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے اس احتجاج میں سبھی مذاہب کے انصاف پسند عوام لگاتار ڈٹے ہوئے ہیں دہلی میں دسمبر کی ٹھٹھرتی ہوئی سرد راتوں کی اور کہرے زدہ دن میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خواتین اپنے معصوم بچوں کے ساتھ اس انقلابی احتجاج سے اپنی بات حکومت سے منوانا چاہتی ہے، یہ احتجاج لگاتار چل رہا ہے اسکے نتیجے میں حکومت کو یہ احساس ہو رہا ہیکہ حکومت کے پاس قانونی ترمیم کو واپس لینے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے جب تک حکومت قانون واپس نہیں لیتی احتجاج جاری رہے گا۔

احتجاج کی اہم بات یہ ہیں کہ اس کی نمائندگی خواتین کر رہی ہیں اس میں عمر رسیدہ بزرگ خواتین کے ساتھ ساتھ ایک 20 دن کی بچی بھی احتجاج کا حصہ بنی ہوئی ہے ان خواتین کا پرجوش انداز ملک بھر کے عوام کی ہمت اور حوصلہ بڑھانے کے لیے کافی ہے

اورنگ آباد شہر میں بھی شاہین باغ کی خواتین، مائیں، بہنیں، بیٹیوں سے یکجہتی اور ان کی ہمت افزائی کے لئے زنجیری احتجاج شروع کیا گیا ہے جو تیسرے دن میں داخل ہو رہا ہے شاہین باغ کا احتجاج ان خواتین کا جذبہ واضح بیان کرتا ہے کہ حکومت جلد از جلد گھٹنے ٹیک کر اس قانون کو منسوخ کریں گی اور ملک بھر میں احتجاج کرنے والے عوام کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گے انشاءاللہ

اورنگ باد کا احتجاج شاہین باغ کی خواتین کی برابری تو نہیں کرسکتا لیکن ان کی ہمت افزائی کے لئے یہ چھوٹی سی کوشش ہے اس احتجاج میں اجتماعی افطار کا انتظام کیا گیا ہے تہجد کی بھی نماز ادا کی جارہی ہے جسکے بعد دعا و اذکار کا اہتمام کیا گیا ہے سردی کی وجہ سے خواتین کا وقت شام 4 سے رات 8 بجے تک رکھا گیا ہے سبھی شہریان سے گزارش ہے کہ شاہین باغ میں احتجاج کررہی خواتین کے جذبے کو سلام کرنے اور ان کی ہمت افزائی کے لئے اس احتجاج کا حصہ بنے یہ کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں یہ ملک کی سالمیت کا معاملہ ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading