نئی دہلی : رمضان کا کا پاک مہینہ چل رہا ہے ۔ اس دوران مسلم طبقہ کے لوگ پورے مہینے روزے رکھتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی وہ پانچوں وقت کی نماز ، قرآن کی تلاوت اور زکاۃ کی ادائیگی کرتے ہیں ۔ مسلم طبقہ میں اس مہینے کو بہت خاص سمجھا جاتا ہے ۔ جس وجہ سے کچھ مسلم ممالک میں روزہ نہ رکھنا جرم مانا جاتا ہے ۔ وہاں روزہ نہ رکھنے والوں کو سزا دینے کا التزام بھی ہے ۔
سعودی عرب کا قانون اسلامک قانان کے مطابق بنایا گیا ہے ۔ یہاں سبھی مسلم لوگوں کو روزہ رکھنا بیحد ضروری ہوتا ہے لیکن اگر غیر ملکی غیر مسلم یہاں افطار سے پہلے کھاتے پیتے ، تمباکو نوشی کرتے ، شراب پیتے اور تیز آواز میں گانا سنتے پائے جاتے ہیں تو ان کے خلاف یہاں سخت کارروائی ہوتی ہے ۔
ملیشیا جیسے مسلم اکثریتی ملک میں اگر کوئی مسلم شخص افطار سے پہلے دن کے وقت اپنا روزہ توڑتا ہے تو اسے مذہبی پولیس گرفتار کرلیتی ۔ اس کے علاوہ ملیشیا میں رمضان میں کوئی بھی افطار سے پہلے کھانا یا تمباکو نہیں بیچ سکتا ۔ جس وجہ سے یہاں شام کو ہی کھانے پینے کی دکانیں کھولی جاتی ہیں ۔ ایسا نہ کرنے پر جرمانہ اور قید کی سزا کا التزام ہے ۔ یہ سزا روزہ نہ رکھنے والوں اور عام مقامات پر کھانے پینے والے لوگوں پر بھی لاگو ہوتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی روزے کے دوران کھانا بیچنے والوں کا لائسنس بغیر پوچھے ہی رد کردیا جاتا ہے ۔
کویت میں مسلم اور غیر مسلم دونوں طبقوں کے لئے عام مقامات پر کھانا- پینا وغیرہ منع ہے ۔ یہاں اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو جیل اور جرمانہ کا التزام ہے ۔
اومان کی بات کریں تو وہاں دفعہ 277 کے مطابق رمضان سے متعلق قوانین پر عمل کرنا ہوتا ہے ۔ اومان میں خلاف ورزی کرنے پر 10 دن سے 3 مہینے تک کی جیل کی سزا دینے کا التزام ہے ۔
#Ramzan #Malaysia #SaudiArbia #Qatar #Oman #Kuwait #UrduNews