ویسے تو پورے ہندوستان میں کورونا کا قہر لگاتار بڑھ رہا ہے، لیکن مدھیہ پردیش کے اندور میں حالات کچھ زیادہ ہی خراب ہیں۔ اندور میں کورونا پازیٹو مریضوں کی تعداد 32 تک پہنچ گئی ہے اور تین لوگوں کی موت بھی واقع ہو چکی ہے۔ اندور میں خوفناک حالات کو دیکھتے ہوئے یہاں لاک ڈاؤن پر لوگوں کو انتہائی سختی کے ساتھ عمل کرایا جا رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے اندور میں تین دن تک دودھ، سبزی، کرانہ، پٹرول پمپ اور بینک بھی بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ گویا کہ یہاں پورے ملک میں جاری لاک ڈاؤن کے مقابلے کہیں زیادہ سخت لاک ڈاؤن نافذ ہو چکا ہے۔
پیر کی صبح جاری صحت بلیٹن کے مطابق اندور میں کورونا پازیٹو مریضوں کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے۔ کورونا کی تازہ جانچ رپورٹ جو سامنے آئی ہے اس کے مطابق اندور میں 8 پازیٹو مریض ملے ہیں جن میں سے 7 کا تعلق اندور سے اور ایک کا تعلق اجین سے ہے۔ مشکل حالات کے پیش نظر ضلع کلکٹر نے میڈیا سے بات چیت کے دوران لوگوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی اور ساتھ ہی سخت لہجے میں یہ بھی صاف کیا ہے کہ اگر کوئی لاک ڈاؤن کے دوران باہر نکلتا ہے تو اس پر قانونی کارروائی کر عارضی جیل میں بھیج دیا جائے گا۔ اس کے لیے ضلع کلکٹر نے کہا کہ ‘میریج گارڈنس’ کو عارضی جیل میں تبدیل کیا جائے گا اور پکڑے گئے لوگوں کی صحت کا پورا خیال رکھا جائے گا۔
کلکٹر نے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کورونا کو قابو میں کرنے کے لیے لوگ 10 سے 15 دن گھر سے باہر نہ نکلیں۔ اگلے دو سے تین دنوں میں رانی پورا، ہاتھی پالہ، کھجرانہ اور چندن نگر علاقے کو سینیٹائز کیا جائے گا اور انتظامیہ کا فوکس بھی ان علاقوں میں زیادہ رہے گا۔ اسی کو دھیان مین رکھتے ہوئے انتظامیہ نے اندور میں پیر کے روز سے تین دن تک مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ ان تین دنوں میں صرف میڈیکل اسٹور اور اسپتالوں کو چھوڑ کر دودھ، کرانہ، پٹرول اور سبزی وغیرہ کی دکانیں بند رہیں گی۔
اس درمیان جب لوگوں کو یہ پتہ چلا کہ دودھ کی سپلائی بھی بند ہو جائے گی، تو اس پر احتجاج شروع ہو گیا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے ضلع کلکٹر نے نیا حکم صادر کیا جس میں بتایا گیا کہ 5 بجے سے 7 بجے شام تک دودھ بانٹ سکتے ہیں اور منگل کی صبح 6 بجے سے 9 بجے تک دودھ بانٹنے کی سہولت رہے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ گھر تک ضروری سامان پہنچانے کے لیے پھیری والے گھر پہنچیں گے، انہی سے خریداری کی جائے۔ دکان والے اپنی دکانوں کے دروازے بند رکھیں گے اور دودھ کی ٹنکی باہر رکھ کر سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھا جائے گا۔ اس درمیان یہ لازمی بنانا ہوگا کہ بھیڑ نہ لگے اور لوگ اپنے منھ پر ماسک لگائے رکھیں۔