اناؤ کی عصمت دری متاثرہ کو کل علاج کے لئے لکھنؤ سے دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال لایا گیا تھا لیکن خبر ہے کہ دہلی میں بھی اس کی حالت بدستور نازک بنی ہوئی ہے۔ متاثرہ کو کل ایئر لفٹ کرا کر لکھنؤ سے دہلی منتقل کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ متاثرہ 90 فیصد جل چکی ہے اور اس کے جسم کے دو اندرونی حصے پوری طرح آگ کی زد میں آنے سے جل گئے ہیں۔ اس کی وجہ سے اس کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے۔ آج ڈاکٹر متاثرہ کے دو چھوٹے آپریشن بھی کر سکتے ہیں۔
Dr Sunil Gupta, Medical Superintendent of Safdarjung Hospital, Delhi: The victim (woman who was set ablaze in Unnao,UP and was later airlifted to Delhi yesterday) has received 90% burn injuries. We have put her on ventilator. Her vitals are fine but she is unconscious. pic.twitter.com/RkvXJobJRL
— ANI (@ANI) December 6, 2019
خبر کے مطابق متاثرہ کے جسم میں جراثیم نہ پھیل جائے اس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جراثیم جسم میں پھیلنا شروع ہو گیا تو پھر علاج بہت مشکل ہو جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ جلنے کے معاملات میں اکثر مریض کی موت جسم میں جراثیم پھیلنے سے ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ کل متاثرہ کو ائیر پورٹ سے محض 18 منٹ میں 13 کلومیٹر کا سفر طے کر کے ہسپتال پہنچایا گیا اور اس کے لئے انتظامیہ نے گرین کوریڈور بنایا تھا جس کی وجہ سے یہ ممکن ہوا۔
قابل غور ہے کہ اناؤ کے تحت آنے والے بہار تھانہ علاقہ کے گاؤں ہندو نگر کی رہائشی متاثرہ کو جمعرات کے روز زندہ جلانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ متاثرہ کو جلانے کا الزام بھی انہیں لوگوں پر عائد ہوا ہے جن پر اس کی آبرو ریزی کا الزام ہے۔ پولس نے اس معاملہ میں 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان حال ہی میں ضمانت پر جیل سے چھوٹ کر باہر آئے تھے اور اب ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پٹرول ڈال کر عصمت دری کی شکار متاثرہ کو زندہ جلا دیا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
