میں بچ تو جاؤں گی؟ قصورواروں کو چھوڑنا نہیں’ اناؤ ریپ متاثرہ جب تک ہوش میں رہی پوچھتی رہی
اناؤ ریپ متاثرہ آخرکار زندگی کی جنگ ہار گئی۔ مسلسل حالت بگڑنے پر اسپتال کے ڈاکٹروں نے اسے وینٹی لیٹر پر رکھا۔ سات ڈاکٹروں کی ٹیم متاثرہ کی نگرانی کررہی تھی۔ صفدر جنگ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈینٹ ڈاکٹر سنیل گپتا نے بتایا کہ کل جعمرات کی رات متاثرہ کو تھوڑی دیر کیلئے ہوش آیا تھا جس میں اس نے بس ایک ہی بات کہی۔ "میں بچ تو جاؤں گی، قصورواروں کو چھوڑنا نہیں‘‘۔ اس کے بعد سے مسلسل اس کی حالت بگڑتی گئی اور وہ زندگی کی جنگ ہار گئی۔
اناؤ عصمت دری کی شکار اس لڑکی نے بالآخر دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں دم توڑ دیا جسے زنا کے ملزموں نے گزشتہ دنوں نذرِ آتش کر دیا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لڑکی 95 فیصد جل چکی تھی اور اسے بچانے کی ہر کوشش ناکام ہو گئی۔ صفدر جنگ اسپتال میں متاثرہ کا علاج کر رہے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جمعہ کی شب 11 بجے سے 12 بجے کے درمیان اس نے آخری سانس لی اور موت کی وجہ دل کا دورہ ثابت ہوا۔
ظلم کی شکار ہندوستان کی اس بیٹی کی موت کی خبر سے لوگوں میں غم و غصے کی لہر ایک بار پھر پیدا ہو گئی ہے۔ متاثرہ کے والد کا بھی بیان منظر عام پر سامنے آیا ہے جو اس وقت انتہائی غمزدہ ہیں۔ انھوں نے ملزمین کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے متاثرہ کے والد نے یہ بھی کہا کہ ’’جس طرح حیدر آباد واقعہ کے ملزمین کو مارا گیا ویسے ہی ہماری بیٹی کے درندوں کو دوڑا دوڑا کر مارا جانا چاہیے یا پھر پھانسی دی جانی چاہیے۔‘‘
واضح رہے کہ 95 فیصد جل چکی عصمت دری متاثرہ کو جمعرات کی شب لکھنؤ ٹراما سنٹر سے ائیر لفٹ کر کے دہلی لایا گیا تھا۔ اس کا علاج مشہور و معروف صفدر جنگ اسپتال میں چل رہا تھا اور’برن اینڈ پلاسٹک سرجری ڈپارٹمنٹ‘ کے ہیڈ ڈاکٹر شلبھ کمار اس کی حالت پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ جمعہ کی شام سے ہی اس کی حالت خراب ہونی شروع ہو گئی تھی لیکن ہماری کوششیں اس کو بچانے کے لیے جاری تھیں۔ ڈاکٹر شلبھ نے بتایا کہ ہماری کوششیں رائیگاں گئیں جب رات تقریباً 11.10 بجے اسے دل کا دورہ پڑا اور تقریباً 11.40 بجے اس نے دم توڑ دیا۔
متاثرہ کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد دہلی ویمن کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال نے افسوس کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں اتر پردیش حکومت اور مرکزی حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ اس معاملے میں عصمت دری کرنے والوں کو ایک مہینے کے اندر پھانسی کی سزا دی جائے۔‘‘
Delhi Commission for Women (DCW) chief, Swati Maliwal on the death of Unnao rape victim last night: I appeal to the Uttar Pradesh govt and central govt that the rapists in this case (Unnao rape case) should be hanged within a month. pic.twitter.com/q5mNHP5wX9
— ANI (@ANI) December 7, 2019
دوسری طرف این سی پی لیڈر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے بھی متاثرہ کی موت کے بعد اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایک اور معصوم کی زندگی ختم ہو گیئ۔ اناؤ عصمت دری متاثرہ کے انتقال کے بارے میں سن کر انتہائی افسوس ہوا۔ ہمیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اسے انصاف ملے۔ ساتھ ساتھ دیگر سبھی عصمت دری متاثرین کو بھی انصاف ملے۔‘‘ مہیلا کانگریس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر یوگی حکومت کو اس طرح کے واقعات کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ’’یو پی حکومت سو گئی، ہندوستان کی ایک اور بیٹی نے دم توڑ دیا۔‘‘
Another innnocent life lost to rape. Extremely Saddened to hear about the demise of the Unnao Rape Victim. My heartfelt condolences. May she rest in Peace. We need to ensure she gets justice as well as all other rape victims…enough is enough….
— Supriya Sule (@supriya_sule) December 6, 2019
واضح رہے کہ اناؤ کے ہندو نگر گاؤں میں ضمانت پر چھوٹے عصمت دری کے دو ملزمین نے تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر نابالغ عصمت دری متاثرہ کو زندہ جلا دیا تھا۔ عصمت دری متاثرہ سنگین طور پر جھلس گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی اور لوگوں میں حکومت و انتظامیہ کے تئیں غصے کی لہر پھیل گئی تھی۔ عصمت دری متاثرہ کو زندہ جلائے جانے کی خبر ملنے کے بعد پولس موقع پر پہنچی تھی اور اسے ضلع اسپتال میں داخل کرایا تھا، جہاں سے ڈاکٹروں نے اسے لکھنؤ ٹراما سنٹر میں ریفر کر دیا تھا۔ بعد ازاں اسے ایئر لفٹ کر کے دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-