تمام دن کی مسافت
اپنے دامن میں سمیٹ کر
یہ شام
میری دہلیز پر
تھک کے ٹھہر جاتی ہے
اکثر تو وہ
لوٹ جاتی ہے خاموش
لیکن کبھی کبھی
کھلے چھوڑ جاتی ہے
یادوں کے دریچے
ماضی کی بھینی بھینی خوشبو
غم سے لدی پرچھائیاں
دل کو شاد کرتے
رنگ و راھت کے پُر سکون منظر
میرے وجود کو ہزار پارہ کرتے
بے زبان خواہشوں کے احتجاج
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
