امریکی ’چکن لیگ‘ کے لئے ہندوستانی بازار نہ کھولا جائے: پولٹری فیڈریشن

نئی دہلی: پولٹری فیڈریشن آف انڈیا نے ملک میں پولٹری صنعت کو بحران سے بچانے کے لئے اس کی مالی مدد کرنے اور امریکی ’چکن لیگ‘ کے لئے ہندوستانی بازار کو کسی بھی صورت میں نہیں کھولنے کی حکومت سے مانگ کی ہے۔

فیڈریشن کے صدر رمیش چند کھتری اور سکریٹری رنپال سنگھ عرف بٹو نے سنیچر کو وزیراعظم نریندر مودی کو ایک میمورنڈم دے کر امریکی چکن لیگ کی درآمد پر 100 فیصد امپورٹ فیس جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔ حکومت کو ہندوستانی کسانوں کے مفاد میں امریکہ کے دباؤ کے آگے نہیں جھکنا چاہیے اور چھوٹے اور سرحدی کسانوں کے مفادات کی حفاظت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پولٹری صنعت کو کسی طرح کی مدد نہیں دیتی ہے جبکہ اس صنعت کے ذریعہ دو کروڑ لوگوں کو روزگار مل رہا ہے اور سالانہ ایک لاکھ کروڑ روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔

کھتری اور سنگھ نے کہا کہ پولٹری صنعت سے متعلق خام مال کی آسمان چھوتی قیمتیں اور مانگ میں کمی کی وجہ سے یہ صنعت گزشتہ ایک سال سے خسارہ میں چل رہی ہے اور بینک کے قرض کی رقم بھی پھنسی ہوئی ہے۔ چکن کے لئے دانے میں استعمال کیے جانے والے مکہ، سویا بین ڈی اولڈ کیک، چاول کے ٹکڑے، باجرہ اور کچھ دیگر چیزوں کی قیمتوں میں بڑے اضافہ کی وجہ سے چھوٹے کسانوں کو بھاری نقصان ہو رہا ہے۔

کھتری اور سنگھ نے پولٹری تیار کرنے کے خرچ کی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ ایک کلو کے چکن کو تیار کرنے میں لاگت تقریباََ 85 سے 90 روپے آتی ہے جبکہ گزشتہ دنوں کئی بار کسانوں کو 45 سے 60 روپے فی کلو تھوک میں چکن فروخت کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ خام مال کی قیمتوں میں کمی آئی تھی تو اس صنعت کے بحران سے باہر نکلنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔ اسی دوران کورونا وائرس کی وجہ سے چکن کی مانگ میں تقریباََ پچاس فیصد کمی آگئی ہے جس سے اس میں بحران مزید گہرا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح ملک میں ہر روز 26 کروڑ انڈے کی پیداوار ہوتی ہے لیکن لاگت خرچ زیادہ ہونے کی وجہ سے بھی خسارہ کا سودا ہو گیا ہے۔ ایک انڈہ تیار کرنے کا خرچ تقریباََ چار روپے دس پیسے آتا ہے جبکہ تھوک بازار میں اس کی قیمت مشکل سے تین روپے 25 پیسے مل پاتی ہے۔ ملک میں تقریباََ 45 سے 50 لاکھ پولٹری یونٹ ہیں جن میں ہر روز دو کروڑ 42 لاکھ کلوچکن تیار ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں چکن لیگ صحت کی نظر سے مناسب نہیں مانا جاتا جس کی وجہ سے وہاں وہ بے کار چیز ہوجاتی ہے اور اس کی ذخیرہ اندوزی پر زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ ہندوستانی بازار کو چکن لیگ کے لئے کھولے جانے کے لئے امریکہ طویل عرصہ سے کوشش کرتا رہا ہے۔ کھتری اور سنگھ نے بتایا کہ 24 فروری کو ملک کے تمام اضلاع میں فیڈریشن کی طرف سے ڈسٹرکٹ مجسٹریوں کو بھی میمورنڈم دے کر امریکی کوششوں کی مخالفت کی جائے گی۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading