بغداد،۲۹؍دسمبر (پی ایس آئی)
عراقی سیاسی رہ نمائوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ عراق پر ایران کی جانب سے کی گئی تنقید مسترد کر دی ہے۔ عراق کی الامہ پارٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران بلا جواز عراق کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کر رہا ہے۔ تہران کو امریکی صدر کے دورہ عراق پر چیخ پکار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔’الامہ پارٹی’ کے سربراہ مثال الآلوسی نے”العربیہ ڈاٹ نیٹ” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ عراق پر تنقید بغداد کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران عراق کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کر رہا ہے۔ عراق ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اورتہران کو عراق آنے والے کسی ملک کے لیڈر پر تنقید کا کوئی جواز نہیں۔الآلوسی کا کہنا تھا کہ عراقی حکومت یا وزارت خارجہ کی طرف سے تہران کے خلاف بغداد کے اندرونی امور میں مداخلت کا باقاعدہ اعتراض کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے عراق میں موجود دہشت گرد ملیشیائوں کو نکال باہر کرنے اور ان کی طاقت کچلنے کے لیے امریکا اور عراق کے درمیان تزویراتی شراکت کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ عراق پر ایران کی جانب سے سخت تنقید کی گئی تھی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی صدر کا دورہ عراق کی خود مختاری کی توہین ہے۔
ٹرمپ کے بعد آسٹریلوی وزیراعظم بھی اچانک دورے پر عراق پہنچ گئے
بغداد،۲۹؍دسمبر
(پی ایس آئی)
عراقی حکومت کے مطابق آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن کل جمعہ کو اچانک دورے پر بغداد پہنچ گئے۔ ان کا یہ دورہ غیر اعلانیہ ہے۔ قبل ازیں امریکی صدر بھی گذشتہ ہفتے اچانک عراق پہنچ گئے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی وزیراعظم اپنے آرمی چیف کے ہمراہ ایک کارگو طیارے پر اچانک بغداد پہنچے۔ بغداد میں آسٹریلوی وزیراعظم اور آرمی چیف دارالحکومت کے شمال میں قائم معسکرک التاجی میں فوجی اڈے پر پہنچے۔ذرائع کے مطابق موریسن نے عراقی حکومت کے کسی عہدیدار سے کوئی بات چیت نہیں کی۔ انہوں نے آسٹریلوی فوجی اڈے کا معائنہ کیا جہاں 800 آسٹریلین فوجی عراق کی مسلج افواج کو عسکری تربیت دے رہے۔اسکاٹ موریسن کے دورہ بغداد کا مقصد وہاں پر تعینات آسٹریلوی فوجیوں کو نئے سال کی مبارک باد پیش کرنا اور ان کی عسکری خدمات کو سراہنا ہے۔قبل ازیں بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غیر اعلانیہ دورے پر بغداد پہنچ گئیتھے۔ عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ انہیں صدر ٹرمپ کے دورے کا علم تھا مگر حالات نے ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی اور صرف ٹیلیفون پر بات چیت کی گئی۔