اسرائیل کے سرکاری براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے کہا ہے کہ تل ابیب نے پہلے مرحلے میں غزہ میں قید کیے گئے مغوی افراد میں سے 33 کو زندہ یا مردہ رہا کیے جانے اور دوسرے مرحلے میں جنگ ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
سرکاری ادارے کے مطابق ایک اسرائیلی سیاسی ذریعے نے زور دے کر کہا ہے کہ "مذاکرات اس حقیقت پر مبنی ہیں کہ ان کا نتیجہ حماس کی صلاحیتوں کو تباہ کرنے کا باعث بنے گا”۔قبل ازیں ایک اسرائیلی سیاسی عہدیدار نے کہا تھا کہ تل ابیب امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجویز کی زیادہ تر تفصیلات کو قبول کرتا ہے لیکن اگر حماس نے اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی تو وہ لڑائی دوبارہ شروع کرنے کا حق محفوظ رکھے گا۔
ذریعے نے عبرانی اخبار "معاریف” کو دیے گئے ایک بیان میں اشارہ کیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل کی شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، اور ان میں حماس کی عسکری اور انتظامی صلاحیتوں کو تباہ کرنا، تمام مغویوں کی بازیابی کے ساتھ یہ شرط بھی شامل ہے کہ دوبارہ غزہ سے اسرائیل پر حملہ نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ مغویوں کی رہائی کے منصوبے میں اسرائیل کو یہ مطالبہ کرنے کی اجازت دینی چاہیے کہ مستقل جنگ بندی کے نفاذ سے پہلے ان تمام شرائط کو پورا کیا جائے۔سفارتی ذریعے نے کہا کہ یہ منصوبہ تمام 125 یرغمالیوں کی رہائی کا باعث بنے گا۔ پہلے انسانی بنیادوں پر لڑائی کے عارضی خاتمے کے ساتھ درجنوں خواتین، بالغ افراد اور انسانی بنیادوں پر کچھ لوگوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔ تمام اغوا شدہ افراد اور دیگر متاثرین کی رہائی کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کی خاطر ،امریکہ، قطراور مصر کی ثالثی میں مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔