جنوبی افریقہ کے ساتھ چلی نے بھی بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف اس مقدمے میں فریق بن کر جنوبی افریقہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس میں اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ جنوبی افریقہ کا یہ مقدمہ ماہ جنوری سے بین الاقوامی عدالت انصاف میں زیر سماعت چلا آرہا ہے۔ اس امر کا اظہار چلی کے صدر جبریل بورک نے نیشنل کانگریس سے خطاب کے دوران کیا ہے۔
نیشنل کانگریس سے خطاب کے دوران صدر بورک نے غزہ کی تباہ کن صورتحال کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے خلاف سخت ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔صدر بورک نے کہا ‘اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ کی دائر کردہ درخواست میں چلی فریق بنے گا۔ چلی جنوبی افریقہ کے کیس کی حمایت کرتا ہے۔’
بین الاقوامی عدالت انصاف نے اس کیس میں اسرائیل کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔ نیز غزہ کے جنوبی شہر رفح میں اسرائیلی فوج کو کارروائیاں روکنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جنگ میں 36379 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔خیال رہے چلی 2011 سے فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ صدر بورک نے اس سے پہلے کہا تھا کہ غزہ میں جنگ کا کوئی جواز نہیں ہے۔