امریکہ کا دھمکانے والوں کو بلا جھجھک نشانہ بنانے کا اعلان، ایران کا ’طویل جنگ‘ کی تیاری کا دعویٰ

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ یہ آپریشن ’لامتناہی جنگ‘ میں تبدیل نہیں ہوگا بلکہ مقصد ایران کے میزائل اور سکیورٹی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے برعکس ایک طویل جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران میں ’بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں‘ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ایرانی حکومت کی طرف سے لاحق خطرات کو ختم کیا جا سکے۔

وہ امریکہ فوجیوں کے اعزاز میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران میں جاری آپریشن کے مقاصد ’واضح‘ ہیں، جن میں ’ایران کی میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنا‘ اور ’ان کی بحریہ کو نیست و نابود کرنا‘ شامل ہے، اس کے علاوہ انھیں کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا بھی مقصد ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یہ ملک ’اپنی سرحدوں سے باہر دہشت گرد افواج کو اسلحہ، فنڈز اور ہدایات فراہم کرنا جاری نہیں رکھ سکتا۔‘

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’آج ملک ان چار امریکی فوجیوں کے لیے سوگ منا رہا ہے جو کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے۔‘صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران میں ’بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں‘ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ایرانی حکومت کی طرف سے لاحق خطرات کو ختم کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکی انتباہات کو نظر انداز کیا اور ’ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں روکنے سے انکار کر دیا۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام دراصل ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کو تحفظ دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ امریکہ وہ ملک تھا جو اس عمل کو روکنا چاہتا تھا، لیکن ’سب ہمارے ساتھ تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ایرانی حکومت مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ ساتھ امریکی عوام کے لیے بھی ایک ’ناقابلِ برداشت خطرہ‘ ثابت ہوگی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading