الجزائر کا چراغ بجھ گیا

آج الجزائر کے بزرگ ترین عالم دین الشیخ محمد الطاهر آيت علجت وفات پاگئے۔ اس عظیم مجاہد کی عمر 106 سال تھی۔ 31 اکتوبر 1917ء کو پیدا ہوئے۔ زندگی فرانسیسی استعمار کے خلاف جہاد میں گزار دی۔ فقہ مالکیہ کے اساطین میں سے تھے۔ بچپن میں قرآن حفظ کرکے استنبول  میں خلافت عثمانیہ کےمشائخ سے علم حاصل کیا۔ سقوط خلافت کے بعد واپس آئے۔ قراءات سمیت جملہ دینی علوم اور ریاضیات کے بھی ماہر تھے۔ تونس کےجامعہ زیتونہ میں بھی پڑھاتے رہے۔ 1937ءمیں الجزائر آکر مسند تدریس سنبھالی اور ملک بھر سے علوم دینیہ کے پیاسے ان کے چشمہ صافی سے سیراب

ہوتے رہے۔
لیکن اگست 1956ء میں درس وتدریس اور مسند افتاء چھوڑکر مجاہدین کی صف میں شامل ہوگئے اور فرانس کے خلاف جہاد شروع کیا۔فرانسیسی فوج نے ان کا مدرسہ نذر آتش کر دیا، جس میں 100طلبہ شہید ہوگئے۔مجاہدین نے شیخ کو اپنا سربراہ مقرر کیا۔ تاہم 1957ء میں حریت پسندوں نے انہیں لیبیا بھیج دیا۔

وہاں سے جنگجوئوں کی تربیت کرکے الجزائر بھیج دیتے۔ 1963ء میں جب الجزائر آزاد ہوا تو شیخ بڑی شان سے واپس آئے۔ ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ دارالحکومت میں جامع عقبة بن نافع کے استاذ مقرر ہوئے۔ یہاں تک کہ 1978ء میں ریٹائرڈ ہوگئے۔ شیخ نے الجزائری علماء کی سب سے بڑی جماعت رابطة  الدعوة الإسلامية کی بنیاد رکھی۔ وہ ہزاروں علماء و مشائخ کے استاذ تھے۔ جن میں سابق وزير مولود قاسم نايت بلقاسم اور الدكتور محمد الشريف قاهر وغیرہ شامل ہیں۔ اسلحہ تھام کر وہ قلم سے غافل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کئی کتابیں بھی تصنیف کیں۔

جن میں موطا امام مالک کی شرح سمیت ہر فن کی کتاب شامل ہے۔ انہیں موجودہ الجزائر کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شیخ کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور انہیں اعلیٰ مراتب سے نوازے۔ آمین

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading