افغانستان میں صرف حجاب پہننے والی خواتین ہی تعلیم اور روزگار حاصل کر سکیں گی: طالبان

واشنگٹن: افغانستان پر قبضہ کرنے والے طالبان نے کہا ہے کہ ملک میں صرف حجاب پہننے والی خواتین کو ہی تعلیم اور کام (روزگار) کا حق ملے گا، امریکہ کو ملکی ثقافت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے جمعہ کی دیر رات ’فاکس نیوز‘ سے کہا کہ ’’خواتین کے حقوق کے بارے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، ان کی تعلیم اور کام کے بارے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، ہماری ثقافت یہ ہے کہ وہ حجاب کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔ وہ حجاب کے ساتھ کام کر سکتی ہیں‘‘۔

ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان سے خواتین کو بغیر حجاب کے کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے حقوق یقینی بنانے کی درخواست کی تھی، جو افغان ثقافت کو تبدیل کرنے کی کوشش تھی۔ تنظیم کے نقطہ نظر سے ناقابل قبول ہے۔ واضح رہے کہ طالبان نے ایک ہفتے تک افغانسان کے مختلف صوبوں پر حملوں اور قبضے کے بعد 15 اگست کو کابل میں انٹری کی تھی، جس کے بعد موجودہ افغان صدر اشرف غنی نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے، جس کے بعد امریکی حمایت یافتہ سرکار گر گئی تھی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading