اگرچہ اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر قبضے کے منصوبے کی مغربی اور عرب دنیا میں مذمت کی جا رہی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی فوج اپنی لاجسٹک تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس تناظر میں اسرائیلی چینل 12 نے بتایا کہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تقریباً اڑھائی لاکھ فوجیوں کو طلب کیا گیا ہے۔ اسرائیلی نشریاتی اتھارٹی نے اپنی طرف سے بتایا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی سروس نے غزہ میں فلوجہ اور موصل کے منظرنامے کے دہرائے جانے کے امکان سے خبردار کیا ہے۔ اس تنبیہ سے حماس کے جنگجوؤں کے ساتھ سڑکوں پر لڑائی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
نشریاتی اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ غزہ شہر کا محاصرہ کرنے اور تقریباً 10 لاکھ افراد کو پٹی کے اندر بنائی جانے والی نئی جگہوں پر منتقل کرنے پر مبنی ہو گا جس میں خوراک کی تقسیم کے لیے 12 اضافی مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔ اسرائیلی چیف آف سٹاف ایال زامیر جنہوں نے نیتن یاہو کے منصوبے کی مخالفت کی تھی نے کہا ہے کہ فوج غزہ پر قبضے کے منصوبے کو بہترین طریقے سے مکمل طور پر نافذ کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فوج نئے منصوبے سے نمٹے گی اور اعلیٰ ترین سطح پر اس کی منصوبہ بندی اور تیاری کو گہرا کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں جنگ کی ترقی اغوا کیے گئے افراد کی زندگیوں کو بچانے کی کوششوں کو دیکھے گی۔ یادرہے ایسی رپورٹس تھیں جنہوں نے اس کے نتائج، خاص طور پر حماس کی حراست میں موجود افراد کی قسمت کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
اسی طرح ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار جو غزہ شہر پر قبضے کے منصوبوں سے واقف ہے نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ یہ آپریشن مرحلہ وار ہوگا۔ اہلکار نے مزید کہا کہ بڑے زمینی آپریشن کے آغاز کی تاریخ کا ابھی تک تعین نہیں کیا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا کہ آپریشن میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی اور شہریوں کو زبردستی انخلا کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیلی اور حماس کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے بشارہ بحبح نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات "جمود کا شکار” ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی ہے کہ غزہ میں امدادی ٹرکوں کی آمد باقاعدگی سے جاری رہے گی لیکن ان کے بقول یہ امداد پٹی میں داخل ہوتے ہی چوری ہو جاتی ہے۔’’العربیہ‘‘ کے نامہ نگار مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مشرق وسطیٰ کی پیش رفت پر بات چیت کے لیے کل ایک اجلاس منعقد کرے گی۔ یہ اجلاس آج طے تھا لیکن اس کا وقت تبدیل کردیا گیا ہے۔ اجلاس میں اسرائیلی حکومت کے غزہ کی پٹی پر مکمل قبضے کے نئے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اسی دوران اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے کئی علاقوں پر اپنی توپخانے اور فضائی بمباری کو تیز کر دیا ہے جس کے نتیجے میں نصیرات کیمپ کے شمال میں سات فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ اس کے علاوہ وادی غزہ کے پل کے جنوب میں امداد کا انتظار کرنے والے دو افراد اسرائیلی سنائپرز کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔اسرائیلی توپ خانے نے غزہ شہر کے جنوب مشرق میں الزیتون محلے پر بمباری جاری رکھی۔ ایک ڈرون نے البریج کیمپ کے مشرق کو نشانہ بنایا اور اسرائیلی افواج نے خان یونس شہر میں رہائشی عمارتوں کو مسمار کرنے کا عمل جاری رکھا۔