اسرائیل کا محمد الضیف کی ہلاکت کا دعویٰ: ’نو زندگیوں والے جنگجو‘ کے نام سے مشہور حماس کے عسکری چیف کون ہیں؟

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس کی عسکری سرگرمیوں کے سربراہ محمد الضیف کی گذشتہ ماہ غزہ کی پٹی میں ایک فضائی حملے میں ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔

القسام بریگیڈ کے قائد محمد الضیف کو 13 جولائی کو خان یونس کے علاقے المواسی میں ایک عمارت پر حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا تاہم حماس نے ابھی تک ان کی موت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ الضیف جنوبی اسرائیل میں سات اکتوبر کو ہونے والے ان حملوں کے منصوبہ ساز افراد میں سے ایک تھے جس میں 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے محمد الضیف کی ہلاکت کی تصدیق کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جبکہ ایک ہی دن قبل حماس کے سیاسی بیورو کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو ایران میں قتل کر دیا گیا تھا تاہم اسرائیل نے ان کی موت پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔اکتوبر میں اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کیا جس میں اب تک حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق، کم از کم 39,480 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جمعرات کو ایک بیان میں، اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’خفیہ معلومات کے جائزے کے بعد، اس بات کی تصدیق کی جا سکتی ہے کہ محمد الضیف 13 جولائی کے حملے میں مارے گئے۔‘

غزہ میں وزارتِ صحت کے حکام نے اس وقت کہا تھا کہ فضائی حملے میں 90 سے زیادہ لوگ مارے گئے لیکن حماس نے اس بات کی تردید کی کہ مرنے والوں میں الضیف بھی شامل تھے۔

اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا ہے کہ محمد الضیف کی موت حماس کے خاتمے کے سلسلے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ کارروائی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ حماس بکھر رہی ہے اور حماس کے دہشت گرد یا تو ہتھیار ڈال سکتے ہیں یا انہیں ختم کر دیا جائے گا۔‘

محمد الضیف کون ہیں؟
اسرائیل کو سب سے زیادہ مطلوب افراد میں سے شامل محمد الضیف کے بارے میں محمد الضیف غزہ کی پٹی کے علاقہ خان یونس کے ایک مہاجر کیمپ میں سنہ 1965 میں اس وقت پیدا ہوئے تھے جب یہ علاقہ مصر کے زیر تسلط تھا۔

پیدائش کے وقت والدین نے ان کا نام محمد ضائب ابراہیم المصری رکھا لیکن جوانی میں اسرائیل کے مسلسل فضائی حملوں سے بچنے کے لیے خانہ بدوشی کی زندگی اپنانے کی وجہ سے ان کا نام الضیف پڑا جس کا مطلب عربی زبان میں مہمان ہے۔

اپنے خاندان کی غربت کے باوجود، محمد الضیف کے والد نے اپنے بچوں کو تعلیم دلوائی۔ الضیف نے غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے سائنس میں ڈگری حاصل کی، جہاں انھوں نے فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی کی تعلیم حاصل کی۔
یونیورسٹی کی تفریحی کمیٹی کی سربراہی فنونِ لطیفہ میں الضیف کی دلچسپی کی غماز تپی اور وہ سٹیج پر مزاحیہ تھیٹر پرفارمنس کا بھی حصہ رہے۔ یہیں الضیف کو ابو خالد کی عرفیت بھی ملی۔ انھیں یہ نام دورانِ تعلیم ایک ڈرامے میں اداکاری کے بعد ملا۔
یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران، الضیف ’اسلامی فکر‘ سے متاثر ہوئے اور اخوان المسلمون میں شمولیت اختیار کی۔ اس وقت وہ تنظیم کے نمایاں کارکنوں میں سے ایک تھے۔ 1987 میں حماس کی تحریک شروع ہوئی تو ’پہلے فلسطینی انتفاضہ‘ کے بعد الضیف نے حماس کی صفوں میں شامل ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔

1989 میں انھیں اسرائیلی حکام نے گرفتار کر لیا اور وہ حماس کے لیے کام کرنے کے الزام میں 16 ماہ جیل میں رہے۔ اسی قید کے دوران الضیف نے زکریا الشوربجی اور صلاح شہادہ کے ساتھ ’قابض فوجیوں کو پکڑنے‘ کے مقصد کے ساتھ ایک تحریک قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا، یہ تنظیم عزالدین القسام بریگیڈ تھی۔

الضیف کی جیل سے رہائی کے بعد، عزالدین القسام بریگیڈ ایک فوجی تنظیم کے طور پر ابھرنے لگی۔ الضیف اس کے بانیوں میں سے ایک اور اس کے صفِ اول کے رہنما تھے۔

بعد ازاں، الضیف غزہ کی پٹی میں القسام کے متعدد رہنماؤں کے ساتھ غربِ اردن کے علاقے میں چلے گئے اور کچھ عرصے تک وہیں رہے، جہاں انھوں نے القسام بریگیڈز کی ایک شاخ کے قیام کی نگرانی کی اور 1993 میں عماد عقل کے قتل کے بعد اس کے رہنما بن گئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، سنہ 2000 میں، ’دوسرے انتفاضہ‘ کے آغاز کے ساتھ ہی، فلسطینی اتھارٹی نے محمد الضیف کو گرفتار کر لیا، لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب رہے یا انھیں رہا کر دیا گیا۔

2002 میں ایک اسرائیلی چھاپے میں اپنے پیشرو صلاح شہادہ کے قتل کے بعد الضیف عزالدین القسام بریگیڈز کے کمانڈر انچیف بن گئے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading