یہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب حکام کے مطابق ایرانی سکیورٹی سروسز میں اسرائیلی ایجنٹس بڑے پیمانے پر رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ایرانی حکام نے اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ساتھ رابطوں کے الزامات پر متعدد افراد کو پھانسیاں دی ہیں جبکہ اس ضمن میں گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ایرانی حکام نے اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ساتھ رابطوں کے الزامات پر متعدد افراد کو پھانسیاں دی ہیں جبکہ اس ضمن میں گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
یہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب حکام کے مطابق ایرانی سکیورٹی سروسز میں اسرائیلی ایجنٹس بڑے پیمانے پر رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔حکام کا ماننا ہے کہ اس جنگ کے دوران ایران سے جو معلومات اسرائیل کو دی گئی اس کے باعث ملک میں ہائی پروفائل شخصیات کی ہلاکت ہوئی جن میں پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی افواج کی سینیئر فوجی قیادت اور جوہری سائنسدان شامل تھے۔ ایران کے مطابق یہ ہلاکتیں اسرائیل کی موساد انٹیلیجنس ایجنسی کے ایران میں کام کے باعث پیش آئیں۔
ان ہلاکتوں کی تعداد اور حملوں کی درستگی سے پریشان حکام کسی بھی ایسے شخص کو نشانہ بنا رہے ہیں جس کے حوالے سے یہ گمان موجود ہے کہ وہ غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے لیے کام کرتا ہے۔تاہم اکثر افراد کو یہ بھی ڈر ہے کہ یہ مخالف آوازوں کو دبانے اور عوام پر اپنا کنٹرول رکھنے کا ایک طریقہ ہے۔12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی حکام نے تین افراد کو اسرائیل کے جاسوس ہونے کے الزام میں پھانسی دی۔ بدھ کو سیزفائر سے ایک روز قبل مزید تین لوگوں کو ان ہی الزامات پر پھانسیاں دی گئیں۔
حکام کی جانب سے اس کے بعد سے غداری کے الزامات پر ملک بھر سے سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کی جانب سے حراست میں موجود ان ملزمان کے مبینہ اعترافی بیان چلائے گئے جن میں وہ مبینہ طور پر اسرائیلی انٹیلیجنس کے ساتھ تعاون کے الزام کی تصدیق کر رہے ہیں۔انسانی حقوق کے گروہوں اور سماجی کارکنان نے ان تازہ ترین اقدامات کے حوالے سے خوف کا اظہار کیا ہے۔ ان کی جانب سے ایران کی جانب سے ماضی میں غیر منصفانہ مقدمات چلانے کی روایت اور زبردستی اعترافی بیانات کی مثالیں دی گئی ہیں۔ اس حوالے سے خدشات موجود ہیں کہ مزید پھانسیاں بھی دی جا سکتی ہیں۔
ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس کا دعویٰ ہے کہ وہ مغربی اور اسرائیلی انٹیلیجنس نیٹ ورکس کے خلاف ’مسلسل جنگ‘ کر رہے ہیں جن میں سی آئی اے، موساد اور ایم آئی سکس شامل ہیں۔