ہمارےملک عزیز میں اردو زبان کی شرینی اور نزاکت کو اس کے دشمنوں نےبھی تسلیم کیا ہے۔لیکن یہ زبان کس کی ہے۔؟ اس سوال کے جواب میں اسے مسلمانوں کی زبان بنادیاجاتا ہے۔اس لۓ اسے مسلمانوں نےبھی ایک طرح سے اس بات کو قبول تو کیا ہوا ہے۔جیسے ہی اردو کو مسلمانوں کی زبان ہے ایسا کہا جانےلگا تب سے اس کی صحافت ، شاعری ، نثری ادب اور دیگر اصناف مسلمانوں سے منسوب ہوکر رہے گئ ہیں۔
ایک مسلمانوں کی وراثت اور دوسرے صرف اور صرف مسلمانوں کے مسائل کو بڑے پیمانےپر پیش کیا جانے لگا۔؟ان دونوں موضوعات کے حصار سے اردو ادب گذشتہ کئ دہائیوں سے باہر نہیں نکل سکا ہے ۔۔؟جبکہ ترقی پسند ادباء و شعراء نے اسے اس حصار سے باہر نکالنے کی بہت کوشش کیں۔جس میں وہ دس۔ بیس برسوں کےلۓ کامیاب بھی ہوۓ لیکن اس ادبی تحریک میں دین بیزاری زیادہ ہونے سے یہ ادب فلم ،ڈرامہ ،ناٹک ،موسقی اور فیشن زدہ معاشرے کی تفریح بن کررہےگیا۔اسے اردو کے عام قاری نے ہمیشہ کےلۓ اپنی پسند اور دلچسپی کا حصہ نہیں بنایا۔ایسا ہونےکےباوجوداردو صحافت اور ادب میں تحقیق و تجربے کم ہی کۓجاتے ہیں اور اس میں انوکھا پن اور دلچسپی کا بھی فقدان پایا جاتا ہے۔؟آج دنیا کی دیگر چھوٹی بڑی زبانوں کی بقا کی فکر ان زبانوں کے قلم کار نیت نۓنۓ تجربات کرکے اسے دلچسپی سے پر رکھنے کی پوری پوری کوشش کرتے ہوۓ مردہ زبانوں کو زندگی بخش رہےہیں۔اردو ادب کو وراثتی روایتی ادب کے حصار میں رہتے ہوۓ کہانی ،شاعری ،ناول اور صحافت میں موجود روایتوں کےعلاوہ نیا اور انوکھا پن تلاش کرکے قارائین بالخصوص نوجوان نسل کو سننےسے زیادہ پڑھنے والا بنانےکا کام قلم کاروں کو کرنے کی ضرورت ہے۔جس میں بین الاقوامی سطح سے لیکر گاوں دیہات تک پھیلے ہوۓ گلوبل معاشرے کے مسائل پیش کرنےہوں گے۔آج بیشمار موضوع ہمارے آس۔پاس روزمره کی زندگی میں جنم لیتے ہیں لیکن کوئ ان تک پہونچتا بھی نہیں ہے۔؟یہ حقیقت ہےکے نو ۔گیارہ کے بعد دنیا کے تقریباً ہر ملک میں مسلمانوں پر کۓجانےوالےمظالم میں اضافہ ہواہے۔اور اردو ادب کے ایک بڑے طبقے نے ان مظالم ہی کو اپنی تخلیقات کا موضوع بنانا پسند کیا۔جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح سے لیکر ہمارےملک کےگاوں ۔دیہات تک آباد تمام قوموں ،سماجوں اور پسماندہ و بنیادی ضرورتوں سے محروم طبقات کےمسائل کوہم نے نظرانداز کردیاہے۔؟ اردو قلم کاروں نے دوسرے کےدکھ ۔درد کو بہت کم اپنی تحریروں کا حصہ بنایاہے۔؟ کسی محروم شخص یا سماج کا دکھ درد کسی مقبول زبان کا قلم کار قارائین کوپیش کرتاہے۔وہی سے اس سماج کی منصوبہ بند طریقئہ کار سے تاریخی ، سماجی ، سیاسی ،معاشی ،تہذیبی تبدیلی کا سفر شروع ہوتا ہےاور اس کی ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہے۔ہم نے اردو کے صحافیوں ،شعراء ادباء کو ہائ اسکول ،جونئیر کالج و سینیئر کالج میں زیر تعلیم طلباء کےروبرو پیش نہیں کیا۔تاکہ نئ نسل کی رہنمائ کی جاسکیں اور ان کو اردو ادب کےقارائین بنانے میں آسانی ہو۔ اردو اخبارات ،رسائل و ادب پاروں سے ان کی شناسائی ہوسکے۔سماج کی روزمره کی زندگی کی پیچیدگیاں ہی قلم کاروں کو ہمیشہ ان کی سوچ و فکرکو سنجیدگی پر قائم رکھتےہوۓ ایک قلم کار کو صفحہ قرطاس پر کچھ لکھنے پر مجبور کرتی ہے۔
آج دنیا کو درپیش مسائل کا انبار لگاہوا ہے۔انسان کی انسانیت کا دیوالیہ پن ،دکھ ،درد اور پسماندگی کی محرومیوں سے بیچین سماج کےموضوعات کی تحریریں قارائین کو دلچسپ اور اخلاقیات سےپر وہ سب کچھ دے سکتے ہیں۔جو آج کےقارائین کو چاھئے ۔یہ ایک راقم الحروف کی راۓ ہے۔کسی قلم کار کے پاس اس سے بھی بہتر اور اچھا مشورہ ہوسکتا ہے۔؟؟؟