اردواخبارت انقلاب ،سہارا واردوٹائمزممبئی کی ریڈرشپ میں کئی ہزارکا اضافہ،اردوزبان کے لیے خوش آئندامر

ممبئی4مئی(ایجنسیز)ملک میں اخبارات کے قارئین کی تعداد کا جائزہ لینے والے مستندادارہ میڈیا ریسرچ یوزرس کاونسل نے اپنے انڈین ریڈرشپ سروے میں پانچ اردواخبارت کی ریڈرشپ میں زبردست اضافہ کی اطلاع دی ہے،جن میں کئی شہروں سے اشاعت والا روزنامہ انقلاب،روزنامہ سہارا،اخبار مشرق اور سیاست شامل ہیں ،لیکن ممبئی کے تقریباً ساٹھ سالہ پرانے روزنامہ اردوٹائمز کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کی ریڈرشپ میں محض ایک سال میں 33ہزار کا اضافہ ہوا ۔واضح رہے کہ اخبار ہذاکی اشاعت صرف ممبئی سے ہوتی ہے اور اس کے سرکولیشن میں بھی اضافہ ہواہے اور قارئین کی تعدادڈھائی لاکھ سے تجاوز کرگئی ۔

ہندوستان میں سیکڑوں کی تعداد میں اردوروزنامہ ،سہ روزہ ،ہفت روزہ ،پندرہ روزہ اور ماہنامہ شائع ہوتے ہیں۔روزنامہ انقلاب کی شمالی ہند کی اشاعت میں اردواخبارت کی اشاعت اور قارئین میں اضافہ پر ایک جامع رپورٹ شائع کی گئی ہے جبکہ شمالی ہند کے مدیر شکیل حسن شمسی نے خصوصی اداریہ’جی ہاں انقلاب ہے نمبر ون‘اور دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹرڈاکٹر یامین انصاری نے ادارتی صفحہ پر انقلاب یوں برپا نہیں ہوا ،کے عنوانات سے خصوصی مضمون تحریر کیا ہے۔شکیل حسن شمسی رقم طراز ہیں کہ انقلاب کے مختلف شہروں سے شائع ہونے والے ایڈیشن کے قارئین کی تعداد 9لاکھ 39ہزار سے تجاوزکرگئی ہے

۔اردوجرنلسٹ ایسوسی ایشن ، مہاراشٹر اردوپترسنگھ اور دیگر صحافی تنظیموں نے اس خبر پر مسرت کا اظہار کیا ہے ،کیونکہ اردوزبان کی ترقی وفروغ کے بارے میں اکثرمایوس کن باتی ںکی جاتی ہیں۔

انہوںنے کہا کہ جن پانچ اخبارات کے قارئین کی تعداد کئی لاکھ تک پہنچ چکی ہے ،ان میں تقریباً 9ایڈیشن والا روزنامہ سہارا،اخبار مشرق اور روزنامہ سیاست ہے ،جس کے انٹرنیشنل ایڈیشن بھی شائع ہوتے ہیں ،جہاں ممبئی کے دوسرے نمبر مانے جانے والے 59سال پرانے روزنامہ اردوٹائمز کی بات ہے ،اس قارئین کی تعدادمیں گزشتہ ایک سال میں کئی گنااضافہ ایک خوش آئند بات کہی جاسکتی ہے۔مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر نئی دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ڈاکٹر یامین انصاری نے اپنے خاص مضمون میں لکھا ہے کہ انقلاب کے 14ایڈیشن شائع ہوتے ہیں ،اخبار مشرق دومقامات شائع ہوتا ہے اور اس کے قارئین کی تعدادمیں کمی واقع ہوئی ،لیکن روزنامہ اردوٹائمز کے قارئین کی تعدادڈھائی لاکھ سے تجاوز کرگئی ،یعنی ایک سال میں 33ہزار قارئین بڑھے ہیں،انہوںنے اسے ایک خوش آئند امر قراردیا ہے،کیونکہ اردوداں میں ایک طبقہ مایوسی کا شکار ہے اور اردوزبان کو مردہ قراردینے کی کوشش میں لگا ہے،ایسے وقت میں اردواخبارات کی اشاعت اور قارئین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔روزنامہ سہارا 9مقامات سے شائع ہوتا ہے اور اس کے قارئین کی تعداد میں 21ہزار کا اضافہ بتایا گیا ،البتہ قارئین تین لاکھ سے زائد بتائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ اردواخبارات نے ہمیشہ جمہوریت اور سیکولرز م اور ملک کی گنگا جمنی تہدیب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقراررکھا ہے ،پہلے آرئی آرایس میں اردواخباروںکو شامل نہیں کیا جاتا تھا،لیکن دوتین سال سے اس کا معمول بن گیا ہے ،دراصل اس سروے کی وجہ یہ ہے کہ جوادارے ،کمپنیاں یا دیگر مشتہرین اخبارات میں اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے مقصد سے اشتہارات شائع کرانے کے متمنی ہوتے ہیں ،ان مذکورہ سروے سے پتہ چل جاتا ہے کہ اخبارکے اصل قارئین کی تعداد کتنی ہے اور کہاں کہاں پڑھا جاتا ہے۔اس کام میں میڈیا ریسرچ یوزرس کاونسل مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading