نئی دہلی:(ایجنسیز)سپریم کورٹ نے اجودھیا معاملہ میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے مصالحت کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس کیلئے ایک پینل تشکیل دیا ہے۔ پینل میں تین اراکین کو شامل کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ 2010 میں آئے الہ آباد ہائی کورٹ کےفیصلہ کے خلاف عدالت عظمی میں مجموعی طور پر 14 عرضیاں داخل ہیں۔غور طلب ہے کہ بدھ کو سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے سبھی فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد ثالث کیلئے نام پیش کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ سماعت کے دوران جسٹس بوبڈے نے کہا تھا کہ اس معاملہ میں مصالحت کیلئے ایک پینل تشکیل دیا جانا چاہئے۔
پانچ اہم باتیں :۔سپریم کورٹ کے ذریعہ مصالحت کیلئے تشکیل پینل میں تین ممبران ہوں گے۔ پینل میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس ایف ایم کلیف اللہ ، شری شری روی شنکر اور شری رام پنچو شامل ہیں۔ جسٹس کلیف اللہ اس پینل کی سربراہی کریں گے۔
مصالحت کا عمل15 مارچ سے 15 مئی کے درمیان 8 ہفتوں میں مکمل کیا جائے گا۔ اسی درمیان ملک میں لوک سبھا انتخابات کے نتائج آنے کا بھی امکان ہے۔تین رکنی پینل چار ہفتوں کے درمیان مصالحت کی پیش رفت کے بارے میں سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ داخل کرے گا۔
مصالحت کا عمل اترپردیش کے فیض آباد ضلع میں ہوگا۔ریاستی حکومت کوسبھی طرح کے انتظامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ فیض آباد کا حال ہی میں نام تبدیل کرکے اجودھیا رکھ دیا گیا ہے۔میڈیا کو مصالحت کے عمل کی رپورٹنگ سے سپریم کورٹ نے منع کردیا ہے۔ یعنی مصالحت کا عمل پوری طرح سے رازدارانہ ہوگا اور اس معاملہ سے وابستہ کوئی بھی جانکاری پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا میں شائع نہیں کی جائے گی۔