اجمیر: سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ جمعہ کے روز بھی جاری رہا۔ مختلف شہروں کے ساتھ اجمیر میں بھی بعد نماز جمعہ بڑے پیمانے پر لوگوں نے شرکت کی اور حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ مظاہرین نے بعد میں کلکٹر کے توسط سے صدر جمہوریہ کے نام ایک مکتوب بھی روانہ کیا۔
اجمیر میں راجستھان شیخ عباسی (بھشتی)، اقلیتی مہاسبھا، مسلم مہاسبھا سمیت شہر کی درجنوں تنظیموں کی کال پر وسیع مارچ نکالا گیا، جس میں شہر کے تمام طبقات کے لوگوں نے بلاتفریق شرکت کی۔
واضح رہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد یہ احتجاجی مارچ خان پورہ شروع ہوا اور رام گڑھ، قیصر گنج سے ہوتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر پہنچا۔ یہاں پہلے سے موجود مقامی اور زائرین کی ایک بڑی تعداد بھی مارچ میں شامل ہو گئی۔
#today Muslims gathered at Nizam Gate of Dargah #Ajmer after Friday prayers raising Hindustan Zindabad and 5000 people protests wahaan #Rally #CAA #NRC @ANI @TimesNow @PTI_News @News18Rajasthan @BBCHindi @timesofindia @htTweets @NavbharatTimes @ReallySwara @RichaChadha pic.twitter.com/9gq3IpR0v6
— Wajid Hussain (@wajidhussain177) January 24, 2020
درگاہ اجمیر شریف کے سامنے مجمع اتنا بڑا ہو گیا کہ عرس کا نقشہ نظر آنے لگا۔ اس موقع پر ہزاروں افراد نے احتجاج میں شرکت کی اور فلک شگاف نعرے لگا کر حکومت کی امریت کو چلنج کیا۔ مظاہرے میں نوجوان، بوجورگ تمام عمر کے لوگ شامل تھے، جنہوں نے ’مودی تیری تاناشاہی، نہیں چلے گی‘ کے نعرے لگائے۔

بعد ازاں یہ احتجاجی مارچ دہلی گیٹ ہوتے ہوئے شہر کی اہم سڑکوں سے گزرا اور کلکٹریٹ پر پہنچا۔ کلکٹریٹ پر لوگوں نے ضلع انتظامیہ کے سامنے ایک بار پھر مظاہرہ کیا اور صدر کے نام کلیکٹر کو ایک مکتوب پیش کیا۔
مکتوب کے ذریعے صدر جمہوریہ سے سے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے شہریت ترمیمی قانون کو فی الفور منسوخ کرنے کی اپیل کی گئی۔ علاوہ ازیں، کہا گیا ہے کہ یہ قانون ہندوستانی آئین کے مقاقصد کے عین خلاف ہے، لہذا اس طرح کے ملک مخالف قانون کو عوام کبھی قبول نہیں کریں گے۔
کلکٹریٹ میں مارچ کے منتظمین نے کہا کہ سی اے اے کی وجہ سے معاشرے میں بدامنی کی فضا ہے لہذا مرکزی حکومت کو جلد از جلد اس قانون کو منسوخ کر دینا چاہئے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو