اب اجیت پوار پر مقدمہ چلے گا: ممبئی ہائی کورٹ نے جینت پاٹل، حسن مشرف اور وجے سنگھ موہتے سمیت ۷۰ افراد کے خلاف کارروائی کی ہری جھنڈی دکھائی

ممبئی ۲۲؍اگست(شمشیر احمد)ممبئی ہائی کورٹ نے مہاراشٹر اسٹیٹ کارپوریشن بینک گھوٹالہ معاملے میں داخل پٹیشن کی شنوائی کرتے ہوئےانفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ(ای ڈی) کو مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ اجیت پوار سمیت ۷۰ ؍افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی ہے۔

واضح رہے سماجی کارکن سریندر ارورا نے اس معاملے میں سال ۲۰۱۵ میں ہی تحریری شکایت دی تھی جس پر ای ڈی نے جانچ کرتے ہوئے عدالت کے روبرو رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سال ۲۰۰۷ سے سال ۲۰۱۱ تک مہاراشٹر اسٹیٹ کارپوریشن بینک میں قرین ۱۰۰۰ ؍کروڑ کا گھوٹالہ کیا گیا ہے ،مہاراشٹر کے ۳۴؍اضلاع میں اس بینک کی برانچ ہیں۔

اجیت پوار مہاراشٹر اسٹیٹ کارپوریشن بینک کے ڈائریکٹر بھی تھے۔اس معاملے کی ای ڈی کی جانب سے کارروائی نہ کیے جانے کے بعد عرض گزار سریندر ارورا نے عدالت کے روبرو درخواست دیتے ہوئے قصور واروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ای ڈی کے مطابق مہاراشٹر اسٹیٹ کارپوریشن بینک نے قرض دینے کے تعلق سے آر بی آئیکی جانب سے بنائے گئے وصول ضوابط پر عمل نہیں کیا اور بینک کے ڈائریکٹر سمیت دیگر افراد نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے انھیں قرص دیا جنھوں نے بینک کو قرص واپس نہیں کیا ۔ای ڈی کے مطابق یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحتح کیا گیا ہے۔

جس وقت یہ قرص دیا گیا تھا بینک کے صدر مانک راؤ پاٹل تھے جبکہ ڈائریکٹروں کی فہرست میں مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ اجیت پورا ،وجئے سنگھ موہیتے،آنند راؤ اڑسول، شیواجی راؤ نلاوڑے اور حسن مشرف،مدھوکر چوان،دلیپ دیشمکھ،راجیندر سنگالے،جینت پاٹل، راجن تیلی، وجئے یدھت راؤ،دلیپ راؤ سوپال سمیت ۷۰ افراد شامل تھے۔ اس عرضداشت کی شنوائی ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس ایس سی دھرما ادھیکاری اور جسٹس شندے کے روبر و جاری تھی ۔ فریقین کی بحث کو سماعت کرنے کے بعد ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ نے شکایت کنندہ کی دلیلوں کو قبول کرتے ہوئے اجیت پورا سمیت ۷۰ملزمین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ملزمین کے خلاف کاررروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ دیگر ملزمین کا تعلق مہاراشٹر اسٹیٹ کارپوریشن بینک کے الگ الگ برانچ سے ہے ۔عدالت نے اپنے حکم نامہ میں ای ڈی کو پانچ دنوں کے دوران ملزمین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے حکم جاری ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading