امریکہ نے انڈیا کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی رعایت دی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے امریکی محکمہ خزانہ نے انڈین ریفائنریز کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی چھوٹ دی ہے۔
امریکہ نے انڈیا کی روس سے تیل کی خریداری پر 25 فیصد اضافی ٹیرف لگا دیا، جس سے انڈیا پر امریکی ٹیرف 50 فیصد ہو گیا۔ فروری 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انڈیا نے روس سے تیل خریدنا بند کرنے کا وعدہ کیا ہے، اس لیے اس کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا جا رہا ہے اور اس پر عائد 50 فیصد ٹیرف کو کم کر کے 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر انڈیا نے روس سے تیل کی درآمدات میں کمی نہیں کی تو ٹیرف 18 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیں گے، اس اقدام کا مقصد روس پر یوکرین جنگ بندی سے متعلق دباؤ بڑھانا ہے۔
تاہم، انڈیا نے کہا تھا کہ ملک کے 1.4 بلین لوگوں کی توانائی کی ضروریات اور سلامتی اس کی اولین ترجیح رہے گی۔ انڈیا میں آئل ریفائنری کمپنیاں کئی ممالک کو روسی تیل برآمد کرتی رہی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق یہ جان بوجھ کر بہت مختصر مدت کے لیے چھوٹ دی گئی ہے، اس لیے یہ روسی حکومت کو کوئی خاص مالی فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ اس کا اطلاق صرف اس تیل پر ہوگا جو ابھی سمندر میں پھنسا ہوا ہو۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا، امریکہ کا ایک اہم پارٹنر ہے اور ہم پوری طرح سے توقع کرتے ہیں کہ وہ امریکی تیل کی خریداری میں اضافہ کرے گا۔ انھوں نے وضاحت دی کہ یہ تیل کی عالمی سپلائی سے متعلق ایران کے دباؤ کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران جنگ نے پہلے ہی تیل کی عالمی توانائی کی سپلائی چین کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ خطے میں جاری حملوں اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تیل کی بین الاقوامی منڈی کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس سے کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ دنیا کا ایک بہت اہم سمندری راستہ ہے اور عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کا 20 فیصد اسی سے گزرتا ہے۔
انڈیا اپنی تیل کی سپلائی کا 40 فیصد آبنائے ہرمز سے پورا کرتا ہے۔ کیا انڈیا میں تیل کی کمی ہو سکتی ہے؟
کیا انڈیا میں تیل کی کمی ہو سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوری میں انڈیا کے پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ ملک کے پاس آندھرا پردیش اور کرناٹک میں غاروں، ریفائنریوں اور ذخیرہ کرنے کی سہولیات میں 74 دنوں کی ملکی سطح پر طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی خام تیل موجود ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ خام تیل کے ذخائر 25 دن تک برقرار رہ سکتے ہیں، جب کہ پیٹرولیم مصنوعات جیسے پیٹرول اور ڈیزل مزید 25 دن تک چل سکتے ہیں۔
یہ قلیل مدتی سپلائی اس طرح کے ہنگامی واقعات سے نمٹنے کے لیے رکھے گئے سٹریٹجک ذخائر سے الگ ہے۔ لیکن موجودہ تنازع کے پیش نظر قدرتی گیس کے سب سے بڑے سپلائر قطر نے کہا ہے کہ وہ پیداوار روک دے گا۔
قطر انڈیا کی تقریباً 27 ملین ٹن مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا 40 فیصد سپلائی کرتا ہے۔ گیس درآمد کرنے والی کمپنی پیٹرونیٹ ایل این جی لمیٹڈ نے بھی اپنے صارفین، گیل انڈیا اور انڈین آئل کارپوریشن کو سپلائی میں خلل کی اطلاع دی ہے۔