چینائی:31/ اکتوبر ۔ (ورق تازہ نیوز)آدھار کارڈ ایک نہایت اہم دستاویز ہے۔ بہت سے سرکاری کاموں کے ساتھ ساتھ بینکنگ امور میں بھی آدھار کارڈ کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن اگر آدھار کارڈ اپڈیٹ نہ ہو تو لوگوں کو مختلف پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی دوران مدراس ہائی کورٹ نے آدھار کارڈ سے متعلق ایک اہم بیان دیا ہے اور UIDAI (یونک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا) کو ایک خاص مشورہ بھی دیا ہے۔ اس فیصلے سے عام شہریوں کو بڑا فائدہ ہونے کا امکان ہے۔ آئیے اس بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں۔
آدھار کارڈ اپڈیٹ کرنا بنیادی حق ہے
آدھار کارڈ اپڈیٹ کرانے کے لیے بہت سے لوگوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران مدراس ہائی کورٹ نے کہا کہ “آدھار کارڈ اپڈیٹ کرانا شہریوں کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ لہٰذا UIDAI کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ آدھار اپڈیٹ کرتے وقت لوگوں کو کوئی مشکل پیش نہ آئے، کیونکہ آدھار کارڈ کئی سرکاری اسکیموں سے منسلک ہے اور اس کے ذریعے عوام کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچتا ہے۔ اس لیے آدھار کارڈ اپڈیٹ کرنے کا عمل آسان اور سہل ہونا چاہیے۔”
آدھار ڈیٹا اپڈیٹ کی سہولت آسان ہونی چاہیے
جسٹس جی۔ آر۔ سوا میناتھن کی بینچ نے مزید کہا کہ سرکاری اسکیموں کا فائدہ حاصل کرنا شہریوں کا بنیادی حق ہے اور اس کے لیے آدھار کارڈ لازمی ہے۔ لہٰذا شہریوں کو آدھار ڈیٹا اپڈیٹ یا اصلاح کے لیے جدوجہد نہیں کرنی چاہیے۔ عوام کو یہ سہولت آسانی سے دستیاب کرانا UIDAI کی ذمہ داری ہے۔ ملک کے کئی حصوں سے آدھار اپڈیٹ سے متعلق شکایات سامنے آ چکی ہیں۔
دریں اثناء، 74 سالہ بیوہ خاتون پی۔ پشپم کی دائر کردہ عرضی پر سماعت کے دوران عدالت نے یہ مشاہدہ پیش کیا۔ پشپم کے آدھار کارڈ میں نام اور تاریخِ پیدائش میں غلطیاں ہونے کی وجہ سے ان کی پنشن روک دی گئی تھی۔ اب انہیں آدھار کارڈ درست کرانے میں مشکلات درپیش ہیں۔ پشپم کے شوہر فوجی تھے اور کچھ ماہ قبل ان کا انتقال ہو گیا۔ اب جب انہوں نے پنشن کے لیے درخواست دی تو آدھار کارڈ میں غلطیوں کے سبب ان کی درخواست رُک گئی، جس پر انہوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور سماعت کے دوران عدالت نے یہ اہم ریمارکس دیے۔