آموزشی ماحصل ’نوعیت اور اہمیت‘ از عبدالملک نظامی‘ ناندیڑ۔

تعلیمی معیار میں سدھار کے لئے مرکزی حکومت کی وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل نے ایک حکم نامہ مورخہ 8فروری 2018ءکو جاری کرکے ملک کی تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کی قدر پیمائی کرنے کے لئے فہرست برائے کارکردگی درجہ (PGI) Performance Grading Index کا تعین کیا ہے۔ ےہ ایک ایسا وسیلہ ہے جس سے تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کی تعلیمی حالت کا اندازہ قائم کیا جائے گا۔ اس میں اسکولوں کی کارکردگی آج کیسی ہے اور کون کون سے شعبوں میں سدھار کی فوری ضرورت ہے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اسکولی تعلیم میں کون سے طریقوں سے مثبت تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں ےہ ظاہر کرنے کے لئے PGI کو ملک بھر میں نافذ العمل کیا گیا۔ PGI میں جملہ 70مظاہراتی اشاروں کے لئے 1000نمبرات مختص کیئے گئے ہیں۔ اس میں آموزشی ماحصل اور معیارِ تعلیم کے لئے 15مظاہراتی اشاروں کو 180نمبرات دیئے گئے ہیں۔

مہاراشٹر نے ان 1000نمبرات سے 700نمبرات حاصل کرکے چوتھا مقام حاصل کیا۔ ریاستی حکومت نے مورخہ 18اپریل2019ءکو ایک حکم نامہ جاری کرکے ریاست کے تمام شرائے عمل (Stakeholders)کو ہدایت دی کہ سال میں کم از کم تین مرتبہ صد فیصد اسکولوں (سرکاری اور امدادی) کا معائنہ کرکے اپنی رپورٹ PGIکے اعلیٰ عہدیداروں کو روانہ کریں۔

مورخہ 27اگست 2017ءکے انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق نیتی آیوگ (Niti Aayug)کے تین سالہ 2017-18) تا(2019-20 لائحہ عمل میں ےہ تجویز پیش کی کہ بچوں کے لئے مفت اور لازمی حق قانون 2009ء(RTE)میں ترمیم کرکے right to go to school لازمی طور پر اسکول جانا کے بجائے right to learn لازمی طور پر سیکھنا کو شامل کیا جائے۔ اس طرح RTEمیں ترمیم کرکے آموزشی ماحصل کو لازمی قرارد یا گیا ۔

آموزشی ماحصل سے متعلق NCERTدہلی نے ایک کتاب ’ایلیمنٹری سطح کے آموزشی ماحصل‘ شائع کی جو NCERTکی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ خواہش مند حضرات اِسے ڈاﺅن لوڈ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح ریاستی سطح پر مہاراشٹر پراتھمک شکشن پریشد ممبئی کے مالی تعاون سے مہاراشٹر راجیہ پاٹھیہ پُستک نرمتی و ابھیاس کرم سنشودھن منڈل (بال بھارتی)پونے اور مہاراشٹر ودیا پرادھیکرن (ایم ایس سی ای آرٹی) پونے کی جانب سے تحتانوی سطح (پہلی سے پانچویں جماعت) اور اعلیٰ تحتانوی سطح (پانچویں سے آٹھویں جماعت) کے لئے اُردو اور مراٹھی میڈیم کے الگ الگ کتابچے شائع کیے ہیں۔تعلیمی سال 2017-18ءسے تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں اس مواد پر عمل آوری شروع ہوئی اور اسی آموزشی ماحصل پر NASکی قدر پیمائی بھی کی جائے گی۔ NCERTکی جانب سے شائع کردہ کتاب میں موجود قومی سطح کے آموزشی ماحصل کو جوں کا توں استعمال کرنا لازمی قرار نہیں دیا گیا ہے بلکہ ریاستی حکومت کو ےہ اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی مخصوص ضروریات کے لحاظ سے ان میں تبدیلی کریں۔

آموزشی ماحصل دراصل نصاب یا درسیات کا عکس ہوتے ہیں۔ مارک بیٹرس بے Mark Battersby کے مطابق آموزشی ماحصل نصاب کی وضاحت کرنے والے آسان جملے ہوتے ہیں۔ تعلیم کو موثر طریقے سے اپنانے کے لئے گذشتہ دہائی میں دنیا کے نامی گرامی اساتذہ اور تعلیمی اداروں نے آموزشی ماحصل تیار کرنے کو فوقیت دی تاکہ نصاب کی تکمیل آسان ہوجائے۔

آموزشی ماحصل learning outcomes اور آموزشی مقاصد learning objectives میں بعض لوگ فرق نہیں کرتے۔ اُن کا کہنا ہے کہ آموزشی مقاصد ہی میں آموزشی ماحصل پوشیدہ ہوتے ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ آموزشی ماحصل آموزشی مقاصد کا ایک جزو ہے۔ آموزشی مقاصد کے مقابلے میں آموزشی ماحصل زیادہ واضح ہوتے ہیں۔ آموزشی ماحصل درس و تدریس کا ایک جزو ہے۔ آموزشی ماحصل ایک معنی میں نصاب کے اطلاق اور اُسے مربوط کرنے کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے نصاب کی توقعات اور مقاصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔

آموزشی ماحصل ایسے بیانات ہوتے ہیں جس سے ےہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی کام کی تفویض‘ جماعت‘ نصاب یا پروگرام کی تکمیل پر طلبہ نے کون سی معلومات حاصل کیں یا اُن میں کون سی مہارتیں پیدا ہوئی۔ آموزشی ماحصل کی تعریف یوں بیان کی جاسکتی ہے کہ ”ےہ ایک ایسا بیان ہوتا ہے جسے ناپا جاسکے‘ قابلِ مشاہدہ ہو اور واضح انداز میں لکھا گیا ہو ۔ اس میں اس بات کی بھی توقع کی جاتی ہے کہ سیکھنے کے نتیجے میں طالب علم نے کون سا علم حاصل کیا اور کیا عمل کرسکتا ہے“۔

"A learning outcome is a measurable, observable and specific statement that clearly indicates what a student should know and be able to do as a result of learning”.

آموزشی ماحصل کی مدد سے طلبہ اس بات سے بھی واقف ہوتے ہیں کہ حاصل کردہ معلومات اور مہارتیں اُن کے مستقبل کے لئے کس قدر مفید ہیں۔ طلبہ کی توجہ علم اور مہارتوں کے سیاق و سباق اور ممکنہ اطلاق پر ہوتی ہے جس کی وجہ سے طلبہ اپنی آموزش کو مختلف سیاق و سباق سے مربوط کرتے ہیں۔ آموزشی ماحصل طلبہ کی تحسیب (جانچ/قدرپیمائی) کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

اکثر و بیشتر اساتذہ مطلوبہ آموزش کی نوعیت اور ان معیارات سے واضح طور پر واقف نہیں ہوتے ہیں جن کے مقابل اُن کی تحسیب کی جاتی ہے۔ وہ مکمل درسیات کے طور پر درسی کتابوں کا استعمال کرتے ہیں اور اکائی یا مشقوں کے آخر میں دیئے گئے سوالات کی مدد سے تحسیب کرتے ہیں۔ آموزشی ماحصل کے ذریعہ تحسیب سے اساتذہ ‘ سرپرست اور شرکائے عمل معیارِ تعلیم کی نگرانی کرسکتے ہیں اور مناسب سطحوں پر اصلاحی اقدامات کرنے کی طرف توجہ مبذول کرسکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ذمہ داریوں کا احساس بھی پیدا کیا جاسکتا ہے۔

قومی سطح پر اور ریاستی سطح پر ہر جماعت کے ہر مضمون کے لئے متوقع آموزشی ماحصل وضع کیئے گئے ہیں جس سے طلبہ کے درمیان آموزش کی ضمانت اور صحیح سمت میں اپنی کوششوں کو بروئے کار لانے میں تمام شرکائے عمل کی مدد کی جاسکتی ہے۔ آموزشی ماحصل طلبہ ‘ اساتذہ اور شرکائے عمل کے لئے بہت اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔

آموزشی ماحصل طئے کرنے سے قبل اس بات پر غور کریں کہ طلبہ نصاب کی تکمیل پر کون سا علم /معلومات حاصل کریں گے یا کس قدر قابل بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کے حصول علم کی ضرورتیں کون سی ہیں اور اُسے وہ اپنی زندگی میں کس قدر موثر انداز میں استعمال کرسکتے ہیں اور سماج کو اس کا کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔ اس علم میں نہ صرف معلومات بلکہ مہارتں اور قدریں بھی شامل ہوتی ہیں۔

آموزشی ماحصل کی زبان میںذیل کی طرف اشارہ /نشاندہی ہوتی ہے۔

٭ نصاب کی تکمیل میں طلبہ کے لئے کون سے اجزاءکا علم حاصل کرنا اشد ضروری ہے۔
٭ نصاب کی تکمیل میں طلبہ کی کن باتوں پر عمل کرنا لازمی ہے۔
٭ طلبہ کس قسم کی معلومات یا مہارتوں کا حصول کریں کہ نصاب کو مزید تقویت ملے۔
٭ نصاب میں کون سی معلومات یا مہارتیں طلبہ کے لئے نئی ہیں۔
٭ نصاب کے لئے اور کون سی معلومات معاون ثابت ہوسکتی ہےں۔
٭ جملہ کا آغاز طالب علم سے ہو اور سب سے پہلے فعل کا استعمال کریں۔
٭ ‘bullets’‘ dashes(ختمہ کا نشان)‘ numbering(نمبر شمار) کو شامل نہ کریں۔
٭ جاننا‘ سمجھنا‘ سیکھنا‘ تعریف کرنا وغیرہ الفاظ کا استعمال نہ کریں (کیونکہ ان کی پیمائش نہیں کی جاسکتی)
٭ آموزشی ماحصل SMARTہونے چاہیے یعنی Specific(واضح ہو)‘ Measurable(جس کی پیمائش کی جاسکے) ‘ Applicable (جس کا اطلاق ہو) ‘ Realistic(جو حقیقت پر مبنی ہوں) اور Time bound(جس میں وقت کا تعین کیا جاسکے)۔
عام طور پر آموزشی ماحصل میں فعل‘ عنوان مواد‘ (سیاق و سباق)‘ حصول کی سطح (متوقع آموزش) اور بعض مرتبہ کارکردگی کی بنیاد (ممکنہ اطلاق کے طریقہ کار) شامل ہوتی ہیں۔ بلووم(1956) Bloom کے دو دوست Lorin Anderson اور David Krathwohiنے 2001ءمیں بلوم ٹیکزونامی Bloom’s Taxonomy میں ترمیم کرکے اُسے ذیل کے مطابق ترتیب دیا۔ یہاں ہر زمرے کے تحت آنے والے فعل کی فہرست دی جارہی ہے۔

(1) Rememberیاد رکھنا (علم) مثلاً : تعریف بیان کرنا‘ شناخت کرنا‘ فہرست تیار کرنا‘ نام بتانا‘ دہرانا‘ بیان کرنا وغیرہ۔
(2) Understand (فہم) مثلاً : درجہ بندی کرنا‘ واضح کرنا‘ روداد لکھنا‘ خلاصہ کرنا وغیرہ۔
(3) Apply(اطلاق) مثلاً: استعمال کرنا‘ تشریح کرنا‘ حل کرنا وغیرہ۔
(4) Analyze(تجویز کرنا) مثلاً : موازنہ کرنا‘ خلاصہ کلام‘ تنقید کرنا‘ فرق واضح کرنا‘ تجربہ کرنا‘ جانچ ‘ تواتر وغیرہ۔
(5) Evaluate(جانچ /قدر پیمائی) مثلاً : دفع کرنا‘ تعین کرنا‘ پیشن گوئی کرنا‘ انتخاب کرنا‘ وغیرہ۔
(6) Create (تخلیق کرنا) مثلاً : جوڑنا‘ جمع کرنا‘ ذخیرہ کرنا‘ تشکیل دینا‘ تعمیر کرنا‘ ضابطے بنانا‘ تجویز پیش کرنا‘ نظم کرنا وغیرہ۔

آموزشی ماحصل کے ذریعہ طلبہ کے تحسیب کے طریقہ کار کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ آموزشی ماحصل کی مدد سے اساتذہ تعلیمی معیارات کا تعین کرسکتے ہیں جس سے نصاب کے تکمیل کی جانچ کی جاسکتی ہے۔ تعلیم سے وا بستہ شرکائے عمل (stakeholders)کو آموزشی ماحصل سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ طلبہ کے مستقبل کے لئے کون سی معلومات/مہارتیں یا نصاب زیادہ مفید ثابت ہوسکتی ہےں۔

2018ءمیں شائع شدہ یا اصلاح شدہ ایڈیشن والی بال بھارتی کی درسی کتابوں میں آموزشی ماحصل شامل کیے گئے ہیں۔ اُردو زباندانی جماعت سوم تا پنجم کے آموزشی ماحصل مراٹھی سے ترجمہ کیئے ہوئے ہیں۔ جماعت ششم اور ہفتم کی درسی کتابوں (اُردو زباندانی) میں مذکور آموزشی ماحصل پر نظر ڈالیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ےہ تو اسباق اور نظموں کے خلاصے ہیں۔ مذکورہ بالا آموزشی ماحصل کی نوعیت کا مطالعہ کرنے پر اس بات کا علم ہوگا کہ ہماری درسی کتابیں کس قدر آموزشی ماحصل سے ہم آہنگ ہیں؟ ریاست کے تقریباً ہر ضلع کے DIECPDکی جانب سے PGIکی جانچ کا لائحہ عمل طئے ہوچکا ہے۔ اس میںآموزشی ماحصل کی جانچ بھی ہونے والی ہے ۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ آموزشی ماحصل پر سنجیدگی سے غور کریں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading