آر یس یس اور ہم

اسانغنی مشتاق احمد رفیقی

آر یس یس،27 ستمبر 1925 میں قائم ہوئی ایک چھوٹی سی تنظیم نے اپنے قیام کے صد سال مکمل ہونے کے قریب ہی سہی، مسلسل محنت اور انتھک کوششوں سے اپنے آپ کو ہندوستان پر حکومت کرنے کا قابل بنا ہی لیا ۔ بھلے سے ظلم و بربریت کے داستانوں سے اس کا دامن داغدار سہی، نفرت اور تشدد پرستی اس کا شعار سہی، لیکن اپنے ہدف تک پہنچنے کے لئے جب اس کی منصوبہ بندی اور لائحہ عمل کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں تو حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح صفر سے شروع ہوکر آج یہ تنظیم ہندوستانی سیاست میں ایک زیرک، شاطر اور زبردست قوت بن چکی ہے۔ ہم اس سے لاکھ اختلاف کریں، اس کا مذاق اڑائیں، اس کی ابن الوقتی پر طعنے کسیں، لیکن ہمیں اس کی تنظیمی صلاحیت پر ششدرہوجانا پڑتا ہے۔ اس کے کارکنوں میں اپنے تنظیم سے جو لگاؤ ہے، اپنے ہدف تک پہنچنے کے لئے جو جنون ہے، ہر حال میں تنظیم سے جڑے رہنے کا جو جذبہ ہے، اس میں کا عشر عشیر بھی ہمیں اپنے لوگوں میں نہیں ملتا۔

آج ہندوستان کا صدر اس کا آدمی، نائب صدر اُس کا آدمی، مرکز میں حکومت اُس کی، وزیراعظم اُس کا آدمی، بحیثیت وزیر تمام اہم قلمدانوں پر اُس کے آدمی، ہندوستان کے تمام بڑے ریاستوں میں اس کے لوگوں کی حکومت اور وزیر اعلیٰ کے کرسی پر اُس کے آدمی براجمان۔ سمجھنے والوں کے لئے اس میں بہت نشانیاں ہیں۔ اگر ہم ایسے ہی گزشتہ سو سالوں کی ہماری اپنی تاریخ کے صفحات الٹ کر اُس وقت کے ہمارے خد و خال پہچاننے کی کوشش کریں تو حیرت اور صدمے سے ہمارا برا حال ہوسکتا ہے۔ متحدہ ہندوستان میں ہم ایک زبردست اور مضبوط قوت تھے،حکومت کی ایوانوں میں ہماری سنی جاتی تھی۔ انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں ہم صف اول کے شہسوار تھے۔ پھر نہ جانے ایسا کیا ہوا، ہمارے چند ناعاقبت اندیش رہنماؤں کے غلط فیصلوں اور غیروں کے ریشہ دوانیوں سے ہم تین ٹکڑوں میں بانٹ دئے گئے۔ ہماری قوت منتشر ہوگئی، اور اس انتشار کے نتیجے میں ذلت و رسوائی ہم پر مسلط ہوگئی۔ وطن سے ہماری وفاداری مشکوک قرار پائی۔ ان سب حالات کے لئے ہم کسی کو قصور وار ٹہرائیں؟ سچ پوچھئے تو یہ سب ہماری ہی کوتاہ نظری اور جذباتی فیصلوں کے نتائج ہیں جس پر آج ہم حیران و پشیمان واویلا مچا تے سر گرداں ہیں۔ نہ ہمارے پاس کوئی تنظیم ہے نہ مرکزی لیڈرشپ نہ مستقبل کے لئے کوئی لائحہ عمل۔ اور سب سے بڑی بات، ان سب باتوں پر غور کرنے کے لئے ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہے۔ ہندوستان کو آزاد ہوئے 72 سال ہوگئے، سوائے ہمارے یہاں پائے جانے والے پیشتر اقوام تیزی کے ساتھ ترقی کے شاہراہ پر گامزن ہیں۔ جدید تعلیم سے آراستہ، زمانے کی نبض پہچانتے یہ لوگ وقت کی باگیں ہاتھ میں تھامے ستاروں پر کمندیں ڈال رہے ہیں۔ اور ادھر ہم تعلیم سے بے پرواہ، قدامت پرستی کے مرض اور ماضی کے تفخر میں مبتلا، ہر نئی چیز کا انکار کرتے ہوئے، آپسی اختلافات کو ہوا دیتے، ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں، نہ ہمیں اپنے حال کو سدھارنے کا خیال نہ مستقبل کی کوئی فکر، ہم میں کا ہر آدمی بزعم خود لیڈر، کوئی کسی کے پیچھے چلنے کو تیار نہیں، عالم کو اپنے علم کا گھمنڈ، جاہل کو اپنے جہالت پہ ناز، ایک زوال پذیر قوم کی جتنی علامتیں ہوسکتی ہیں وہ ہم میں موجود،اور ان سب پر طرہ یہ کہ ہم بھیڑوں کے ایک ایسے گلے کی طرح ہوگئے ہیں جسے ہر کوئی سبز گھاس دکھا کر اپنی طرف ہانک لے جاتا ہے، پھر بھی ہم اپنے نام نہاد سیادت و امامت کے خوش فہمی سے نکلنے کو تیار نہیں۔ قدرت کا ازل سے یہ اصول رہا ہے کہ امامت و سیادت کا تاج یہ اسی کے سر پر سجاتی ہے جو اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرتا ہے، اور یہ بات ہم سے بہتر شاید ہی کوئی سمجھ سکے کیونکہ اللہ نے اپنے آخری صحیفے میں جس پر ہم مکمل ایمان اور یقین رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں،اس موضوع پر کھل کر کہہ دیا ہے۔ خود احتسابی کا عمل بہت کھٹن ہوتا ہے۔ جب تک زوال کے دہانے پر کھڑی کوئی بھی قوم اس عمل سے نہیں گذرتی وہ عروج کو طرف پلٹ نہیں سکتی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا عروج پھر سے اک بار شروع ہو، تو سب سے پہلے ہمیں اس عمل سے گذرنا ہوگا۔ اپنی غلطیوں کو غلطیاں مان کر ان غلطیوں کی وجہ سے ہمارے جتنے نقصانات ہوئے ہیں ان کی تلافی پوری فراخ دلی کو ساتھ کرنی ہوگی۔ آپسی رجنشوں، عداوتوں،نسلی تعصبات، بغض و کینہ اور مسلکی اختلافات کو پس پشت ڈال کر مکمل اتحا د و اتفاق کے ساتھ منظم ہونا ہوگا۔ ہدف تک پہنچنے کے لئے لائحہ عمل طے کر کے اُس کے خاطر ہر قسم کی قربانی دینی ہوگی،(شری لال کشن اڈوانی کی مثال ہمارے سامنے ہے، کہ کس طرح انہوں نے اپنے تنظیم اور مشن کے خاطر اپنے خواہشات کو قربان کردیا، ایک گم نام زندگی قبول کرلی لیکن اپنی وجہ سے تنظیم میں انتشار برپا ہونے نہیں دیا، بھلے سے ان کے نظریات کچھ بھی ہو، اپنے ہدف سے جڑے رہنا کوئی سیکھے تو اُن سے سیکھے۔ ایک تو پہلے ہی سے ہمارے پاس کوئی بڑی تنظیم نہیں، اس کے باوجود چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر ذاتی مفاد کے خاطراپنے مرکز سے الگ ہوکر نئی پارٹیاں اور تنظیمیں بنانے والے نادانوں کی ہمارے پاس ایک لمبی فہرست ہے۔)، دینی تعلیم اور دنیاوی تعلیم کے بندر بانٹ کو ختم کر کے اپنی نسلوں کو ایسی تعلیم مہیا کرنی ہوگی جو ہرلحاظ سے مکمل ہو۔سیاست دانوں کے سیاسی ہتکھنڈوں اور جذباتی نعروں میں الجھے بغیرکامل متانت اور سنجیدگی کے ساتھ اپنے معاشرے کی تشکیل نو کے لئے اقدامات کرنے ہونگے۔ تب کہیں جاکر ہم اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر اب بھی ہم نے حالات کے نزاکتوں کو نہیں سمجھا، صرف سینہ کوبی اور ماتم کو ہی اپنا شعار بنائے رکھا،جذباتی نعروں میں الجھ کر قدرت کے اصولوں کو نظر انداز کیا، تو یقین رکھیے، ہم پر اس سے بھی برا وقت آنے ہی والا ہے، اور اُس سمے ہم پر رونے ولا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ اللہ ہماری حفاظت کرے۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے اے ہندی مسلمانو!

تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading