آبنائے ہرمز بند ہونے پر کیا تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہوگی؟ وزیر ہردیپ پوری نے بتائی حکمت عملی

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان حکومت ہند تیل اور گیس کی سپلائی اور قیمتوں پر نظر بنائے ہوئے ہے۔ خبروں کے مطابق امریکہ کی طرف سے تین جوہری ٹھکانوں پر حملے کے بعد ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اسے ایرانی پارلیمنٹ کی طرف سے منظوری بھی مل گئی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے پانچویں حصے کے تیل اور گیس کی سپلائی کا اہم راستہ ہے۔

ہندوستان اس راستے سے اپنی تیل ضرورتوں کا بڑا حصہ درآماد کرتا ہے۔ اگر یہ بند ہوتا ہے تو اس سے زبردست اثر پڑنے کا اندیشہ ہے۔ حالانکہ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ سپلائی میں کمی نہیں ہوگی اور عوام کو ایندھن ملتا رہے گا۔

پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ ہندوستان گزشتہ دو ہفتوں سے مشرق وسطیٰ کے حالات پر نظر رکھ رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کی قیادت میں تیل سپلائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی بات کہی۔

’اے این آئی‘ سے بات چیت میں ہردیپ سنگھ پوری نے کہا، ’’قیمتوں کے بارے میں قیاس آرائی کرنا بہت مشکل ہے۔ طویل وقت تک تیل کی قیمت 65 سے 70 ڈالر کے درمیان تھی، پھر 70 سے 75 ڈالر تک رہی۔ جب پیر کو بازار کھلیں گے تو آبنائے ہرمز بند ہونے کا اثر قیمتوں میں نظر آئے گا۔ لیکن جیسا کہ میں لمبے وقت سے کہہ رہا ہوں، عالمی بازار میں وافر مقدار میں تیل دستیاب ہے۔ خاص طور پر مغربی علاقے سے تیل کی سپلائی بڑھ رہی ہے۔‘‘

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading