محترم حضرت مولاناسعد صاحب دام ظلہ!مجھے معلوم نہیں کہ میری یہ تحریر آپ تک پہونچے گی یانہیں لیکن خداکے واسطے اگریہ آپ تک پہونچے تو ایک بارضرورپڑھیے اور سوچیے گا۔پھر اپنے ضمیر کی آواز ضرورسنیے گا۔
اللہ آپ کو ملت اسلامیہ کی آنکھوں کا نور بنائے! آآمین..
محترمی!بنگلہ دیش میں یکم دسمبر ١٨ کو جو ہوا وہ یقینا آپ کے علم میں آیاہوگاکہ جماعت کے دو گروپوں کے درمیان سخت تصادم ہوا جس کے نتیجے میں کئی جانیں ضائع ہوگئیں اور سیکڑوں لوگ زخمی ہوگئے۔گزشتہ دنوں میں بھی چھوٹے چھوٹے اختلاف کے واقعات اور بسا اوقات مساجد سے ایک دوسرے کو نکالنے کے واقعات ہمارے سامنے آتے رہے ۔
یہ بھی پڑھیں
اجتماع گاہ میں مولانا سعاد اور مولانا زبیر کے حامیوں میں جھڑپیں, ایک ہلاک 200 سے زائد زخمی
لیکن آج کی خبر ہم اہل السنہ والجماعۃ اہل دیوبند کے اوپر بجلی بن کر گری کہ وہ جماعت جو دنیا کی سب سے زیادہ امن پسند، نظم وضبط والی اور سب سے زیادہ اچھے اخلاق والی سمجھی جاتی تھی اب وہ خونریزی پر اترآئی ہے۔اس کا امن وسلامتی کاپیغامبر ہونے کا عنوان اب جھوٹا ہونے لگاہے۔اور دشمنان اہل حق کو اس سے جگ ہنسائی کا خوب خوب موقع فراہم ہورہاہے۔ اب دشمنان جماعت کے دودھڑوں کے اختلاف سے اس کی دنیابھرمیں اثراندازی پرضرب کاری لگارہے ہیں اور ہم بے یارومددگار اپنے شیرازہ کے بکھرنے کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔
یقین جانیے کہ جب سے جماعت کا اختلاف ہوا ہے امت کے شب بیدار اورفکر مند علماء بے انتہا بے چین و پریشان ہیں اور اپنے اکابر کے لگائے ہوئے اس شجر طوبی کے حوالے سے بے انتہافکر مند ہیں۔علماء کے ساتھ ساتھ عوام بھی دو طبقوں میں بٹ کررہ گئے ہیں۔جب دیکھو،جہاں دیکھوایک اختلاف کی کیفیت بنی ہوئی ہےاور لوگوں کواب جماعت کی یکجائی کے آثارموہوم نظر آرہے ہیں۔
آج ان حالات پریشاں کو دیکھ کر امت کے اکابر علماء گریہ کناں ہے ۔ وہ فریاد کرنا چاہتے ہیں مگرکس سے کریں۔وہ بات کرنا چاہتے ہیں مگر کس سے کریں۔دونوں طرف وہ لوگ ہیں جو بہت عرصہ سےاس مشن میں اپنی زندگی کھپائے ہوئے ہیں۔اس لیے فکرمند دلوں میں انتہائی بددلی کی کیفیت ہے اور پژمردگی کا احساس جاگزیں ہوگیاہے کہ اب آخر ہم سب کیاکریں؟ہمیں یہ غم کھائے جا رہاہے کہ ہم اپنی اتنی عظیم تحریک کو ٹوٹتا اور بکھرتابلکہ اس سے جڑے ہوئے لوگوں کو دشمنوں کی طرح باہم دست وگریباں کیسے دیکھیں؟ ہم اسلام دشمن طاقتوں کو اپنے اوپر ہنسنے کا موقع کیسے دے دیں؟
اس لیے خیال ہوا کہ چھوٹامنھ بڑی بات کی ہمت کرتے ہوئے آپ ہی کے سامنے اپنی معروضات رکھیں۔
محترم مولانا!یہ صرف آپ ہی کی ذات والاصفات ہے جو جماعت کے دونوں دھڑوں کو اکٹھاکر سکتی ہے۔جو ملت کے بکھرے شیرازہ کو یکجا کرسکتی ہے۔ آپ ہمارے لیے ،اس ملت کے لیے ، حق کی پیاسی و متلاشی اس امت کے لیے ہوسکے تو اپنی امارت کو قربان کردیجیے۔اگر کرسکیں تو اکابر دیوبند کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک کر انھیں اپنافیصل اور حکم بنا لیجیے۔یہ صرف آپ ہی کرسکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کا دل بہت بڑا ہوگااور ہو بھی کیوں ناکہ آپ پیغام محمدی کی نشرواشاعت میں اپنی زندگی وقف کرچکے ہیں۔خدارا اس عظیم دینی اور دعوتی تحریک کو بے اثر ہونے سے بچالیجیے۔اللہ تعالی ، ان شاء اللہ آپ کو آخرت میں کسی بہت بڑی جماعت کا سرداربنا کر اٹھائے گا۔
آپ تو ایک عظیم خانوادے کے فرزند ہیں لہذا آپ کے سامنے سرورکائنات ﷺ کے نواسے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا کردار یقیناآپ کے سامنے ہوگا جنھوں نے خلیفہ برحق ہونے کے باوجود امت سے انتشاردورکرنے کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبرداری کا اعلان کردیا اور اس ملت کو مزید انتشار سے بچالیاتھا۔
آپ کے سامنے تو وہ حدیث بھی ہوگی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ "أنا زعيم ببيت في ربض الجنة لمن ترک المراء وإن کان محقا "کہ میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑدیا. ( ابوداؤد)
بہت ممکن ہے کہ میری یہ بات صدا بہ صحراثابت ہولیکن میں مایوس نہیں ہوں بلکہ کوئی بھی معتدل الفکر ناامید نہیں۔لیکن میں جانتاہوں کہ جس جگہ آپ بیٹھے ہیں اور جس مقام پر آپ فائز ہیں وہاں سے آپ کا دستبردار ہونابہت مشکل ضرورہے لیکن ناممکن نہیں۔اگر آپ نے ملت کی شیرازہ بندی کی ٹھان لیاتو یقین جانیے کہ اللہ آپ کو دنیاوآخرت میں بے پناہ سرخروئی عطا کرے گا۔
گجرات کے بزرگ عالم دین اور مرکز کے پرانے بزرگ حضرت مولانا ابراہیم دیولہ صاحب سے اختلافات کے بعد اور انکے مرکز چھوڑ کر چلے جانے کے باوجود عیادت کے لئے آپ ان کے گھر تشریف لے گئے تھے جس کا ملت پر بڑا ہی مثبت اثر پڑا تھا۔۔
کاش اسی طرز عمل کو ایک بار پھراپنا کر اپنی اعلی ظرفی اور اپنی اعلی نسبی کا مظاہرہ کرکے امت کے سامنے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی مثال کو زندہ فرمادیں ۔ مجھے یقین کامل ہے کہ آپکی اس پیش قدمی سے پوری امت ایک بہت بڑے فتنہ اور فساد سے محفوظ ہو جائے گی اور اسکا بے پناہ اجر آپ کو اللہ تعالی عطا فرمائے گا۔
خدارا ہم پر احسان فرمائیں اور ملت کی اس عظیم امانت کو بچا لیں..
اللہ آپ کو ہمت دے اور آپ کو ملت کے حق میں حسنی کردار (دو جماعتوں کی یکجائی) کو دہرانے کا حوصلہ دے اور اپنے مقبول ترین بندوں میں شامل فرمائے..
از: ابوسمیہ اور عمر نصیر کوکوا