اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ’بچوں کا قاتل‘ قرار دیتے ہوئے ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ’اگر وہ زندہ ہیں تو ان کا پیچھا کر کے انھیں قتل کر دیا جائے گا۔‘
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے یہ معلومات ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں جاری کیں۔اسی دوران جنوبی افریقہ میں ایران کے سفارت خانے نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا: ’اس سے فرق نہیں پڑتا کہ نیتن یاہو زندہ ہیں یا مردہ۔ میناب کی ایک چھوٹی سی بچی کا ایک بال بھی نیتن یاہو کی پوری زندگی سے زیادہ قیمتی ہے۔‘
اس معاملے میں یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ پاسداران انقلاب نے ’اگر نیتن یاہو زندہ ہیں‘ جیسا جملہ کیوں استعمال کیا؟
یہ دعویٰ یا افواہ کہاں سے آئی کہ بنیامین نیتن یاہو زندہ ہیں یا نہیں؟
بہرحال، کئی رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ’نیتن یاہو کی موت‘ سے متعلق خبروں کو جعلی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے کیا کہا؟
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز پر ہی جنوبی ایران کے شہر میناب میں واقع لڑکیوں کے ایک سکول پر حملہ کیا گیا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس واقعے میں طالبات اور سکول عملے سمیت 160 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
ایران میں اس حملے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔ ہلاک ہونے والی بچیوں کے جنازوں میں بڑی تعداد میں ایرانی شہری شریک ہوئے۔
نیتن یاہو کہاں ہیں؟
ماہرین کا ماننا ہے کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات کے دوران غلط معلومات اکثر تیزی سے پھیلتی ہیں، خاص طور پر اُس وقت جب لوگ سیاسی رہنماؤں اور فوجی پیش رفت کے بارے میں تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
جب صارفین کسی معلومات کی تصدیق کیے بغیر اسے شیئر کرتے ہیں تو سوشل میڈیا کی وجہ سے ایسی معلومات مزید تیزی سے پھیلتی ہیں۔
اگرچہ بنیامین نیتن یاہو کی موت کے بارے میں اطلاعات تیزی سے پھیلیں لیکن اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ وہ لاپتہ ہو گئے ہیں یا اسرائیل چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر حالیہ ویڈیوز اور عوامی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بدستور قوم سے خطاب کر رہے ہیں۔ وہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان فوجی آپریشنز سے متعلق مشاورت میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔