ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کی پہلی عام میٹنگ میں ہنگامہ، مجسمہ نصب کرنے کے مسئلے پر اجلاس ختم، عوامی مسائل پھر ندارد

ناندیڑ:(ورق تازہ نیوز)ناندیڑ واگھالا میونسپل کارپوریشن کی نئی تشکیل کے بعد منعقد ہونے والی پہلی عام میٹنگ پیر کے روز شدید ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگئی۔ شہر کی ترقی سے متعلق اہم موضوعات پر گفتگو کی امید کی جا رہی تھی، مگر ایک مجسمہ نصب کرنے کی تجویز پر ایوان میں شدید تنازعہ کھڑا ہوگیا اور بالآخر انتظامیہ کو اجلاس مختصر کرتے ہوئے اسے ختم کرنا پڑا۔

اجلاس کے آغاز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک کارپوریٹر نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کا مجسمہ شہر میں نصب کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز پر کچھ دیر تک بحث جاری رہی۔ اس کے بعد کانگریس پارٹی اور ونچت بہوجن آگھاڑی کے کارپوریٹروں نے اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں صرف ایک رہنما کا مجسمہ لگانے کے بجائے مختلف قومی اور تاریخی شخصیات کے مجسمے بھی نصب کیے جائیں۔

انہوں نے سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبد الکلام، میسور کے دلیر حکمراں ٹیپو سلطان سمیت دیگر عظیم شخصیات کے مجسمے نصب کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس مطالبے کے بعد ایوان کا ماحول گرما گیا اور مختلف جماعتوں کے کارپوریٹروں کے درمیان شدید نعرہ بازی اور بحث شروع ہوگئی۔ حالات قابو سے باہر ہوتے دیکھ کر کچھ دیر کے لیے اجلاس ملتوی کر دیا گیا اور بالآخر ہنگامہ خیز ماحول میں عام اجلاس ختم کر دیا گیا۔

دریں اثنا شہر میں پانی کی فراہمی، سڑکوں کی حالت، صفائی، شہری سہولیات اور دیگر زیر التواء مسائل پر بحث کی توقع تھی، مگر کسی بھی اہم موضوع پر گفتگو نہ ہو سکی جس پر اپوزیشن نے سخت ناراضگی ظاہر کی۔

پرشانت انگولے (کانگریس و لوک وکاس آغاڑی کے گروپ لیڈر)، سابق ڈپٹی میئر و کارپوریٹر عبدالغفار اور صابر چاؤس (نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے کارپوریٹر) نے اس واقعہ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ شہر کے بنیادی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میونسپل کارپوریشن کی پہلی ہی عام میٹنگ میں شہر کی ترقی کا لائحۂ عمل، زیر التواء منصوبے اور شہری مسائل زیر بحث آنا چاہیے تھے، مگر اس کے بجائے سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی۔

اس دوران میٹنگ میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد اب شہریوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ناندیڑ شہر کے دیرینہ مسائل پر توجہ آخر کب دی جائے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading