
آپ بالی وڈ اداکار اور مکالمہ نویس قادر خان کو فلموں میں ایک کامیڈین یا ایک شفیق باپ کے کردار میں دیکھتے رہے ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات پر ریسرچ کرچکے ہیں اور ایک اوپن یونیورسٹی قائم کرنے جارہے تھے؟ کسے پتہ تھا کہ قادر خان جنہوں نے 700 سے زائد فلموں میں اداکاری کی اور مکالمے لکھے وہ کبھی اسلامیات پر ریسرچ بھی کریں گے؟
ویڈیو
قادر خان کی زندگی کا ایک چھوٹا سا پہلو
مرحوم قادر خان نے قرآن مجید اور اسلامی تعلیمات میں ایک خصوصی تعلیمی نصاب بھی تیار کیا تھا یہ نصاب آسان فہم عربی اور اردو زبان میں تیار کیا گیا تھا؛ اسطرح کی معلومات ان کے ایک خاندانی دوست نے دی.
"اگرچہ بالی ووڈ میں 1990 کی دہائی میں قادر خان کا کیریئر شباب پہ تھا اسی وقت ان کے والد، مرحوم مولانا عبدالرحمن خان کی خواہش تھی کہ ان کے نظریات اور اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کا کام ان کا بیٹا آگے بڑھائے اور لوگوں کے ذہنوں سے اسلام کے تعلق سے غلط سوچ اور تصورات کو صاف کرنے میں مدد کریں. صحافی جاوید جمال الدین نے قادر خان کے زندگی کے ان پہلوؤں کو اجاگر کیا. جاوید جمال اردو کے مشہور صحافی اور مضمون نگار ہے وہ قادر خان کے قریبی دوست مانے جاتے ہیں.
اصل میں کابل، افغانستان سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدالرحمٰن خان ایک معروف اسلامی عالم تھے جو بعد ازاں تقسیم 1950 کی دہائی میں، ہالینڈ میں منتقل ہوگئے تھے، جہاں انہوں نے عربی اور اسلامی ادارہ قائم کیا تھا.
تاہم، 1990 کی دہائی کے آغاز میں، قادر خان کو اپنے والد کی طرف سے طلب کیا گیا تھا جسے وہ اپنی ورثہ کو آگے بڑھانے کے خواہاں تھے، لیکن بالی ووڈ میں قادر خان کو کافی شہرت مل چکی تھی اسلئے تبلیغ کا کام ان کیلئے ناگزیر تھا، قادر خان نے تب بتایا تھا کہ انہیں اسلام کے بارے میں معلومات بھی نہیں ہے تو وہ مبلغ اسلام کیسے بن سکتے ہیں اور نہ ہی مجھے عربی یا اردو کا کوئی علم تھا.

ان کے والد عبدالرحمن جو عربی کے عالم تھے کہا کرتے تھے کہ ’تم چاہے جہاں کہیں چلے جاؤ فلم کرو یا تھیئٹر، ایک دن تمہیں لوٹ کر تعلیم اور مذہب کی طرف ہی آنا ہے اور ان کا یہ قول پورا ہوا۔’
والد کے الفاظ قادر خان کے دل پر ہتھوڑے کی طرح پڑے اور انھوں نے فورا 1993 میں عثمانہ یونیورسٹی سے اسلامی مطالعے اور عربی ادب میں اپنا ایم. اے مکمل کیا.
ان کی شخصیت کے اس پہلو کو سمجھنے اور ان کے اس ریسرچ ورک کی تفصیلات جاننے کے لئے بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے 2005 میں ان سے ملاقات کی تھی. ممبئی کے علاقے سانتاکروز میں اپنے دفتر میں اسلامی، دین و فقہ جیسی کتابوں سے اٹی پڑی کتابوں میں گھرے قادر خان روزانہ دس سے بارہ گھنٹے کام کرتے تھے.

ڈیڑھ گھنٹہ کی اس طویل گفتگو کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ زندگی کا یہ دور انہیں ان کی ابتدائی زندگی کی طرف لے جا رہا ہے اور یہی انہیں ان کے اصل مقام تک پہنچانے کا ایک راستہ ہے۔ ’دراصل تعلیم حاصل کرنا اور تعلیم دینا یہی میری اصل زندگی ہے، فلموں میں خود آیا نہیں لایا گیا تھا۔’
قادر خان اُس وقت لوگوں کو عربی زبان سکھانے، اس کے قواعد، اس کا صحیح تلفظ ادا کرنے پر کام کر رہے تھے ۔ اس کے لئے وہ کتابیں بھی لکھ رہے تھے۔ پہلے انھوں نے اردو، ہندی، انگریزی زبانوں میں کتاب لکھنے کا کام مکمل کیا پھر اسے دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا.
قادرخان کہتے تھے کہ چونکہ یہ ان کا خواب تھا، اس لئے فلموں میں اداکاری کرنے کے دوران ہی انہوں نے حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی سے عربی زبان میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
اپنے والد کی خواہشات کی تعمیل کرتے ہوئے، انہوں نے ممبئی میں اسلامی ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی اور پونے کے پوش علاقہ کورے گاؤں پارک میں ان کے بنگلے میں والد کے کام کو آگے بڑھانے کا کام شروع کردیا. جہاں انہوں نے نرسری سے پوسٹ گریجویٹ تک طالب علموں کیلئے بنیادی اسلامی تعلیمات اسلامی اصولوں اور شرعی قوانین پر مشتمل ایک مکمل تعلیمی نصاب تیار کیا تھا.
جمال الدین نے کہا کہ انہوں نے دبئی میں کے. کے انسٹی ٹیوٹ برائے عربی زبان اور اسلامی مطالعہ بھی شروع کیا کے بعد ازیں کینیڈا میں بھی قرآن اور اسلامی تعلیمات عربی اور اسلامی قوانین کو تربیت دینے کیلئے ایک انسٹی ٹیوٹ بھی شروع کیا.
جمال الدین نے کہا کہ قادر خان نے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو 2005 کے ارد گرد مکمل کرلیا تھااور اپنے والد کی آخری خواہش پوری کرکے وہ بہت خوش اور مطمئن نظر آتے تھے.
ستمبر 2014 میں، قادر خان فریضہ حج کی تکمیل کیلئے اپنے خاندان کے ساتھ مکہ مکرمہ گئے. جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل بھی ہوئی تھیں.

سات سال پہلے ان کی بیماری سے قبل، وہ بھارت میں کے کے انسٹیٹیوٹ کی مزید شاخیں کھولنا چاہتے تھے تاکہ اسلامک اسٹڈیز عام ہو. اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر برطانیہ، ریاستہائے متحدہ امریکہ، کینیڈا، دبئی اور دوسرے ممالک میں بھی برانچیس کھولنے کے خواہاں تھے. جن میں سے کئی مختلف مرحلے میں ہیں.
قادر خان کی رائے عام مسلمانوں کو لیکر
قادرخان کو افسوس تھا کہ مسلمان آج بھی قرآن کو سمجھ کر نہیں پڑھتا جس کی وجہ سے وہ قران کی روح کو نہیں سمجھ پاتا اور اسے پتہ نہیں ہوتا ہے کہ کون سا راستہ صحیح اور کون سا غلط ہے۔ عربی سمجھ کر انسان قرآن کا ترجمہ خود کرسکتا ہے اور اس کی روح کو پہچان سکتا ہے۔ قادر خان کے مطابق قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنا یعنی اسے خوشبو کی طرح محسوس کرنا ہے۔اسے یہ احساس ہو گا کہ وہ اللہ سے براہ راست ملاقات کر رہا ہے۔
قادرخان کے نزدیک قران اور حدیث یہ دونوں کتابیں انسانی زندگی کی مکمل ترجمان ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آج کا دور مسلمانوں پر سب سے برا دور کہا جا سکتا ہے۔ انڈیا میں آج مسلمان غریب ہیں، اس لئے اس کی بڑی تعداد ان پڑھ ہی نہیں، جہالت کے دور سے گزر رہی ہے۔ اسے گھر میں سکون نہیں۔ چند لوگوں کی وجہ سے پوری مسلم قوم کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ بم دھماکوں کے خون کے چھینٹے عام مسلمانوں کے دامن پر پڑے ہیں۔
فلمی دنیا میں ان کا کوئی رول ماڈل نہیں ہے لیکن وہ اپنی زندگی کا رول ماڈل اپنے استاد سید شہاب الدین دسنوی کو مانتے ہیں جنہوں نے ان کی ہی نہیں، ان سے تعلیم حاصل کرنے والے ایسے کئی طلباء کی زندگی سنوار دی جن میں شہنشاہ جذبات دلیپ کمار بھی شامل ہیں۔
قادرخان کا رجحان ہمیشہ سے مذہب کی طرف رہا اس لئے وہ فلم کی شوٹنگ کے دوران سیٹ پر بھی نماز پڑھتے دیکھے گئے۔ انہیں ان کی فلمی کرئیر میں تین فلم فیئر ایوارڈ مل چکے ہیں اور درجنوں دوسرے ایوارڈ۔