ناندیڑ:24 مئی۔(ورق تازہ نیوز)لوک سبھا انتخابات کے نتائج یقینا ناندیڑ بالخصوص کانگریس پارٹی کیلئے جھٹکہ دینے والے ثابت ہوئے ہیں لیکن سب سے بڑا جھٹکا کانگریس کو بھوکر حلقہ اسمبلی نے دیا ہے جہاں پر کانگریس کے رکن اسمبلی ‘ پنچایت سمیتی ‘ مجلس بلدیہ وضلع پریشد ارکان ہونے کے باوجود بی جے پی امیدوار پرتاپ پاٹل چکھلی کر کانگریس امیدواراشوک راو چوہان سے زائد ووٹ ملے ہیں جو کانگریس کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں اسکے اثرا ت واضح نظر آئیں گے۔سال 2014ءکے عام انتخابات میںجہاں سارے ملک میں نریندر مودی کی لہر چل رہی تھی ایسے حالات میںبھی کانگریس پارٹی پردیش صدر اشوک راوچوہان نے ناندیڑ حلقہ لوک سبھا کی شاندار 80 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ناندیڑ میںمودی لہر کوروک دیا تھااس وقت بھوکر حلقہ اسمبلی سے انھیں25ہزار کی اکثریت ملی تھی
۔ناندیڑلوک سبھاحلقہ سے بھوکر کی رکن اسمبلی واشوک راو کی شریک حیات امیتاتائی چوہان کو انتخابی میدان میںاتارنے کافیصلہ کیاتھالیکن عین وقت پر اشوک چوہان مہا اتحاد کی جانب سے میدان میںاترگئے بی جے پی نے مہااگھاڑی سے قندہار کے رکن اسمبلی پرتاپ پاٹل چکھلی کر کومیدان میں اتارا ۔لیکن پہلی مرتبہ انتخابی میدان میں ونچت بہوجن اگھاڑی کے پلیٹ فارم پرسیاسی میدان میں قدم رکھنے والے ڈاکٹریشپال بھنگے بھی لوک سبھاچناو کے میدان میںاترگئے اس طرح ناندیڑ میں کانگریس ۔بی جے پی اور ونچت میں مقابلہ طئے ہوگیا۔ان تینوں امیدواروں نے منصوبہ بندطریقہ سے انتخابی تشہیری مہم چلائی جبکہ اشوک راو کوہرانے کےلئے انکے مخالفین ایک پلیٹ فارم پرآگئے۔ وزیراعلیٰ دیویندر پھڑنویس نے ناندیڑ سیٹ پر خصوصی توجہ دی تھی اس کے علاوہ ونچت اگھاڑی کیساتھ اتحاد میںشامل ایم آئی ایم کے سپریمو جناب اسعدالدین اویسی کے علاوہ پرکاش امبیڈکر نے ناندیڑ میں جلسہ منعقد کرکے کانگریس مخالف زبردست ماحول بنایاتھا۔ کانگریس نے بھی راہول گاندھی کے علاوہ دیگر اعلیٰ قائدین کو ناندیڑبلواکرجلسے منعقد کئے اسکے باوجوداشوک راوچوہان کامیاب نہیں ہوسکے۔ بھوکر حلقہ اسمبلی سے اشوک راو¿چوہان کو59ہزار859 ووٹ ملے ہیںجبکہ چکھلی کر کو 80ہزار147 ووٹ ملے اور ونچت اگھاڑی کو 26ہزار720 ووٹ ملے ۔بھوکر اشوک راو کا روایتی حلقہ اورسب سے مضبوط گڑھ ہے اسکے باوجودبی جے پی امیدوار کواُن سے زائد ووٹ ملنا اسمبلی چناو میں اشوک راو کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔