Ukrainian#: ایران نے یوکرینی مسافر طیارے کو مار گرانے کا اعتراف کرتے ہوئے اسے ’انسانی غلطی‘ قرار دیا ہے

ایران کی فوج نے اعتراف کر لیا ہے کہ انھوں نے ’غیر ارادی طور پر‘ یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرایا تھا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایک بیان میں ایرانی فوج کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک انسانی غلطی کی بنا پر ہوا ہے۔‘

یوکرین کی بین الاقوامی فضائی کمپنی کی پرواز پی ایس 752 بدھ کو ایران کے دارالحکومت تہران سے پرواز کے چند ہی منٹ بعد گِر کر تباہ ہو گئی تھی۔ اس حادثے میں طیارے پر سوار مسافروں اور عملے کے اراکین سمیت تمام 176 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ طیارہ تہران سے یوکرین کے دارالحکومت کیئو جا رہا تھا اور ایران کے مقامی وقت کے مطابق صبح 6.12 پر روانہ ہوا اور محض آٹھ منٹ کے بعد ہی گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ممکن ہے کہ ایران نے اس مسافر طیارے کو امریکہ جنگی جہاز سمجھا ہو گا اور انھیں خدشہ ہو گا کہ امریکہ جوابی کارروائی کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایرانی میزائل کہاں تک مار کر سکتے ہیں

یوکرینی طیارے کی تباہی: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

’طیارہ ایرانی میزائل سے تباہ ہوا، انٹیلیجنس رپورٹس میں اشارہ‘

اس سے قبل مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ان کے پاس شواہد موجود ہیں کہ ایرانی فضائی حدود میں یوکرین کے طیارے کو حادثہ ایرانی طیارہ شکن میزائل لگنے کے باعث پیش آیا تھا۔

ایران نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طیارے کو میزائل سے نشانہ نہیں بنایا گیا۔

تو کیا ثبوت ہے کہ طیارہ ایک ایرانی میزائل کا نشانہ بنا تھا؟

ویڈیو میں کیا ثبوت ہے؟

ایرانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو میں یوکرین کی بین الاقوامی ایئرلائن کی پرواز پی ایس 752 کو مبینہ میزائل کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔

ان تصاویر میں زوردار دھماکے کے بعد آگ کے شعلے دکھائی دیتے ہیں جس کے بعد طیارہ اڑان بھرتا رہتا ہے اور اپنا رخ واپس تہران کے ہوائی اڈے کی جانب موڑتا ہے اور پھر آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ کر زمین سے ٹکرا جاتا ہے۔

بی بی سی مانیٹرنگ ٹیم نے اس مقام کی نشاندہی کی ہے جہاں سے اس ویڈیو کی عکس بندی کی گئی، یہ ویڈیو تہران کے مغرب میں واقع رہائشی علاقے پارند سے بنائی گئی ہے۔ یہ امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے، جہاں سے طیارے نے اپنی اڑان بھری تھی۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق، رہائشی عمارتیں، ایک تعمیراتی سائٹ اور سٹوریج ٹینک، سب کچھ جو اس ویڈیو میں نظر آ رہے ہیں، گوگل ارتھ امیج کے ذریعہ اس مقام سے ملتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading