طلاق ثلاثہ  آرڈیننس غیر آئینی’ جمعیة علماءسپریم کورٹ سے رجوع،گلزار اعظمی

0 11

مبئی:25 ستمبر (ای میل)گذشتہ دنوں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے طلاق ثلاثہ معاملے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آرڈیننس پاس کرالیا جس کے بعد سے ہی انصاف پسند عوام بالخصوص مسلمانوں میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے ۔طلاق ثلاثہ معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران فریق اول رہی جمعیة علماءکے قانون امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے آج ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ طلاق ثلاثہ آرڈیننس کو جمعیة علماءنے صدر جمعیة علماءہند مولانا ارشدد مدنی کی ہدایت پرسپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس تعلق سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول کے ذریعہ پٹیشن داخل کی جارہی ہے (فائلنگ رجسٹریشن سیکشن میں پٹیشن داخل کی جاچکی ہے جس کا نمبر جلد ظاہر ہوگا) ۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ طلاق ثلاثہ پر مرکزی حکومت کا آرڈیننس غیر آئینی ہے کیونکہ کسی بھی معاملے پر آرڈیننس اسی وقت لایاجاتا ہے جب بہت زیادہ ایمرجنسی ہوتی ہے لیکن اس معاملے میں ایسی کوئی بھی ایمر جنسی نہیں دیکھائی دیتی ہے لیکن ایوان میں ملی ناکامی کو چھپانے کے لیئے حکومت نے آرڈیننس کا سہارا لیا اور مسلم وومن پروٹیکشن آف رائٹس آن میرج قانون کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی ۔گلزار اعظمی نے کہا کہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے حکومت ہند کو طلاق ثلاثہ پر قانون بنانے کا مشورہ دیا تھا ناکہ آرڈیننس لاکر اپنی منشاءظاہر کرنے کا ۔گلزار اعظمی نے مزید بتایا کہ طلاق ثلاثہ پر حکومت ہند کے ذریعہ لائے گئے آرڈیننس کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہیکہ حکومت نے نہایت عجلت میں یہ قدم اٹھایا ہے کیونکہ قانون سازی کے لیئے ایوان میں درکار ووٹ وہ حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی تھی اور اگر وہ آرڈیننس کا سہارا نہیں لیتی تو اسے منہ کی کھانی پڑتی ۔انہوں نے کہا کہ اب جبکہ حکومت نے آرڈیننس لاہی لیا ہے توجمعیة علماءسپریم کورٹ میں پوری شدت کے ساتھ اسے چیلنج کریگی اور اس کے لیئے سینئر وکلاءسے صلاح ومشورہ بھی کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ ۰۲ ستمبر کو مرکزی حکومت نے طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دینے والا آرڈیننس صدر جمہوریہ ہند رام کوند کی دستخط سے پاس کرالیا تھا جس کے بعد سے ہی عوام میں بے چینی بڑھ گئی تھی ۔