NCP Urdu News 8 March 23

شندے فڈنویس حکومت کام کے بجائے اعلانات واشتہارات پر ہی پوری طاقت صرف کررہی ہے

مالیاتی معائنے کی رپورٹ پھاڑتے ہوئے جینت پاٹل کا حکومت پر سخت تنقید

ممبئی:این سی پی کے ریاستی صدراور آبی وسائل کے سابق وزیر جینت پاٹل نے ریاستی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب سے ریاست میں شندے حکومت آئی ہے، کام سے زیادہ اعلانات اور اشتہارات پرریاست کا پیسہ خرچ کر رہی ہے،جس سے مہاراشٹر کی معاشی حالت خراب ہورہی ہے۔وہ یہاں سے میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔ اس موقع پر جینت پاٹل نے ریاست کی مالیاتی معائنہ رپورٹ کوبھی پھاڑ دیا۔

جینت پاٹل نے کہا کہ ایم وی اے حکومت کے دور میں 2021-22میں ریاست کی ترقی کی شرح کا تخمینہ 12.1فیصد لگایا گیا تھا لیکن آج کے سروے میں ترقی کی شرح6.1فیصد ہی ہے جو انتہائی کم ہے۔ ایم وی اے کے دور میں زراعت شعبے کی شرح نمومیں 11.6فیصد کا اضافہ ہوا تھا جو اب صرف 10.4 فیصد ہے۔اس کے علاوہ صنعتی شعبے میں 3.8 فیصد کا ہی اضافہ متوقع ہے۔ کووڈ کے دوران مینوفیکچرنگ سیکٹر میں 9 فیصد کااضافہ ہوا جو اب یہ صرف 6.9 فیصد ہے۔اس کا اثر سروس سیکٹر پر بھی پڑتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ہسپتال اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں میں ترقی کی رفتار کم ہو گئی ہے۔ایم وی اے کے دور میں کووڈ کے باوجود بھی یہ شعبہ ترقی کررہا تھا۔ اس کے باوجود حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ اس نے کسانوں کی 18/ ہزارکروڑ کی مدد کی ہے، مختلف بحرانوں کے دوران فنڈس دیئے۔ بجٹ میں ریاستی حکومت نے جو اعلانات کئے ہیں اس کے حساب سے تبدیلی کی جانی چاہئے لیکن مالیاتی سروے رپورٹ میں کوئی ترقی نظرنہیں آرہی ہے کیونکہ کسانوں تک ریاستی حکومت کے اعلان شدہ رقم پہنچے ہی نہیں۔

جینت پاٹل نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ترقی کی شرح بھی 11.4 سے کم ہو کر 4.6 پر آ گئی ہے۔ ہوٹل وٹرانسپورٹ سیکٹر میں بڑی تعداد میں لوگ کام کرتے ہیں، اس کی بھی ترقی کی شرح 11.1 فیصد سے کم ہو کر 6.4 فیصد پر آ گئی ہے۔اس سے مہاراشٹر میں بے روزگاری بڑھنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔اس لئے اس حکومت کو بتانا ہوگا کہ مہاراشٹر میں ترقی کہاں ہوئی ہے۔جینت پاٹل نے یہ بھی یاد دلایا کہ مہاراشٹر جو فی کس آمدنی کے حساب سے ملک میں پہلے نمبر پر ھتا وہ اب تیسرے نمبر پر چلا گیا ہے۔کرناٹک، ہریانہ، پنجاب مہاراشٹر سے آگے ہیں۔ٹاٹا ایئربس جیسے پروجیکٹ مہاراشٹر سے باہر چلے گئے ہیں، لیکن مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ اس بارے میں بات تک کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں،اس کا مطلب ہے کہ ہم کسی بھی صنعت کو مہاراشٹر میں لانے کے لیے دہلی کی طرف دیکھتے ہیں۔ اگر دہلی نے اشارہ دیا توہی ہم کوئی صنعت مہاراشٹر میں لائیں گے۔پاٹل نے کہا کہ ریاستی حکومت جھوٹے وعدوں کے ذریعے مہاراشٹر کے عوام کو مطمئن کرنے کے ایک نکاتی پروگرام پر عمل کررہی ہے۔ اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ یہ بجٹ حقائق پر مبنی ہوگا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading