ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے چیف ترجمان آنند پرانجپے نے راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی انتخابات میں شکست واضح نظر آنے کے بعد کانگریس ایک بار پھر پرانے اور بے بنیاد الزامات کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت اور این سی پی- ایس پی کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مہاراشٹر میں ووٹرپیٹرن اور ووٹر لسٹ میں اضافے جیسے موضوعات پر الیکشن کمیشن سے سوال طلب کیا ہے۔ این سی پی- ایس پی کے چیف ترجمان آنند پرانجپے اس پریس کانفرنس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سخت نکتہ چینی کی۔
آنند پرانجپے نے کہا کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں مہاراشٹر سے 31 اراکین پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد کانگریس نے کبھی بھی ووٹر لسٹ میں کسی خامی کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2019 کے اسمبلی انتخابات کے بعد اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات تک، ووٹر لسٹ میں 32 لاکھ نئے ووٹرز کا اضافہ ہوا، جبکہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد 2024 کے اسمبلی انتخابات تک 39 لاکھ نئے ووٹرز شامل کیے گئے۔ ان کے مطابق لوک سبھا انتخابات کے بعد تمام سیاسی جماعتوں بشمول کانگریس نے اسمبلی انتخابات کے لیے نئے ووٹروں کا اندراج کیا تھا، جس پر اس وقت کوئی اعتراض نہیں کیا گیا تھا۔
ووٹروں کی تعداد آبادی سے زیادہ ہونے کے الزامات پر جواب دیتے ہوئے آنند پرانجپے نے کہا کہ 2020 میں کووڈ-19 کے سبب مردم شماری نہیں ہو سکی، جس کی وجہ سے ووٹرز کے اعداد و شمار میں فرق نظر آ رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ لوک سبھا انتخابات کے مقابلے میں الیکشن کمیشن نے 25 سے 30 فیصد زیادہ پولنگ بوتھس بنائے تھے، خاص طور پر مہاراشٹر کے شہری علاقوں میں، جس کی وجہ سے ووٹر لسٹ میں اضافہ ہونا ایک فطری امر تھا۔
انہوں نے کانگریس کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں لوک سبھا انتخابات کے بعد کامیابی کے باوجود کانگریس یا اس کے اتحادیوں نے کبھی بھی ووٹر لسٹ یا الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) پر اعتراض نہیں اٹھایا۔ ان کے بقول اب جب کہ دہلی میں شکست واضح دکھائی دے رہی ہے، تو کانگریس اور اس کے اتحادی پرانے الزامات دہرا کر انتخابات پر سوال اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
