مہاراشٹر کابینہ نے مائناریٹی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کو دی منظوری

ممبئی: ریاست کے اقلیتی طبقے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے ’ٹارٹی‘، ’بارٹی‘، ’سارتھی‘، ’مہاجیوتی‘، ’امرت‘ کی طرز پر ’مائناریٹی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ‘ یعنی ’ایم آر ٹی آئی‘ کا قیام عمل میں آیا ہے۔ ریاستی کابینہ نے اس اسکیم کو منظوری دی ہے۔ یہ اہم فیصلہ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی کوششوں سے ہوا ہے، جس کے لیے اقلیتی طبقے کے لیڈروں نے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کو مبارکباد دی ہے۔

واضح رہے کہ اجیت پوار ریاست کی مسلم اور اقلیتی برادریوں کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی کوششوں اور پہل کی وجہ سے مہایوتی حکومت نے پہلے ہی اقلیتی کمشنریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی کارروائی آخری مراحل میں ہے۔ اقلیتی طبقے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے’ٹارٹی‘، ’بارٹی‘، ’سارتھی‘، ’مہاجیوتی‘ و ’امرت‘ کی طرز پر ’مائناریٹی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ‘ یعنی ’ایم آر ٹی آئی‘ قائم کرنے کا فیصلہ زیر غور تھا۔ آج (7 اگست) کو ہونے والی کابینہ کے اجلاس میں اس کی منظوری دی گئی ہے۔

ریاست کی مہایوتی حکومت میں اجیت پوار نے اقلیتی طبقے کی جانب سے مضبوط وکالت کرنے اور ان کے لیے ترقیاتی منصوبے بنانے کی ذمہ داری مسلسل ادا کی ہے۔ حال ہی میں پیش کردہ بجٹ میں انہوں نے مولانا آزاد اقلیتی اقتصادی ترقیاتی کارپوریشن کی طرف سے چلائی جانے والی اسکیموں کے لیے قرضوں پر سرکاری ضمانت کی حد کو 30 کروڑ روپے سے بڑھا کر 500 کروڑ روپے کر دیا ہے۔ 2024-25 سے اقلیتی برادری کے طلبہ کے لیے غیر ملکی تعلیم کے لیے اسکالرشپ اسکیم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اس سے قبل اس سال 11 مارچ کو ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں چھترپتی سمبھاجی نگر میں اقلیتی کمشنریٹ اور ضلعی سطح پر اقلیتی سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اب اجیت پوار کی پہل پر ’مائناریٹی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ‘ یعنی ’ایم آر ٹی آئی‘ کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے مطابق مائناریٹی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے لیے کل 11 اسامیوں کی تقرری کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کابینہ نے تنخواہ، دفتری اخراجات، پسماندگی کے جائزے اور اس ادارے کے عملے کی تربیت کے لیے کل 6 کروڑ 25 لاکھ روپے کے اخراجات کو بھی منظوری دی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading